قطر نے ٹرمپ انتظامیہ پراثرانداز ہونے کے لیے 250 لابی شخصیات کو کیسے لبھایا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

قطرنے ٹرمپ انتظامیہ پر اثرانداز ہونے والی ڈھائی سو شخصیات کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل میں بدھ کو شائع شدہ ایک رپورٹ کے مطابق قطر نے ان افرادکو دوحہ کے پُرتعیش دورے کرائے ہیں۔

اخبارکی رپورٹ کے مطابق نیویارک سے تعلق رکھنے والے ایک ریستوراں کے مالک جوئے الہام اور لابنگ کاروبار میں ان کے ایک شراکت دار نِک موزین نے ان افراد سے رابطے کیے تھے اور انھیں دوحہ کے سیرسپاٹے کرائے تھے ۔ان خدمات سے استفادہ کرنے والوں میں امریکی ریاست آرکنساس کے گورنر مائیک حکابی اور اٹارنی ایلن ڈرشوٹز بھی شامل تھے۔

ڈر شوٹز نے اس سیرکے بعد قطر کے حق میں ایک کالم لکھا تھا۔البتہ انھوں نے اس میں یہ بھی وضاحت کی تھی کہ وہ امیر قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی کی دورے کی پیش کش کو قبول کرنے میں متردد تھے کیونکہ ’’انھوں نے یہ سن رکھا تھا کہ قطر حماس کی مالی مدد کررہا ہے اور یہ ایک دہشت گرد تنظیم ہے۔ نیز وہ ایران کی حمایت کررہا ہے‘‘۔

ڈرشوٹز نے وال اسٹریٹ جرنل کو بتایا کہ ’’وہ جھانسے میں آگئے تھے کیونکہ وہ اس دورے کے مقاصد سے آگاہ نہیں تھے اور یہ کہ انھیں سیاسی مقصد کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔اگرانھیں اس مقصد کا پہلے پتا چل جاتا کہ انھیں صدر پر اثر انداز ہونے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے تو وہ کبھی قطر نہ جاتے‘‘۔

دوسری جانب گورنر حکابی کو الہام نے مبینہ طورپر پچاس ہزار ڈالرز ادا کیے تھے لیکن انھوں نے اس حوالے سے اخبار کے کسی سوال کا جواب نہیں دیا۔

الہام کا کہنا ہے کہ انھوں نے ان افراد سے ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے سعودی عرب کے قطرکے بارے میں موقف کی حمایت کے بعد رابطہ کیا تھا اور ان کے ذریعے صدر ٹرمپ کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی تھی۔سعودی عرب سمیت چار خلیجی عرب ممالک نے قطر پردہشت گرد گروپوں کی مالی اور سیاسی سرپرستی کا الزام عاید کیا تھا اوراس سے تعلقات منقطع کرلیے تھے۔

قطرنے گذشتہ ڈیڑھ ایک سال کے دوران میں واشنگٹن میں لابنگ پر دو کروڑ چالیس لاکھ ڈالرز اڑا دیے ہیں اور اس نے مالی نذرانوں یا سیرسپاٹوں کے عوض صدر ٹرمپ کی قریبی شخصیات کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔

نیویارک شہر کے سابق میئر روڈی جولیانی کے بارے میں پہلے یہ رپورٹ منظرعام پر آ چکی ہے کہ انھوں نے ایک تحقیقات پر قطریوں کے لیے کام کیا تھا اور اپریل میں صدر ٹرمپ کا ذاتی وکیل بننے سے قبل دوحہ کا دورہ کیا تھا۔

جولیانی نے رائیٹرز کو بتایا تھا کہ انھوں نے صدر ٹرمپ سے قطر میں اپنے کام کے بارے میں بات چیت نہیں کی تھی۔اس کے برعکس ایوان نمائندگان کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے چیئرمین ایڈ رائس نے ’’قطر دہشت گردی کا اسپانسر ملک‘‘ کے نام سے ایک بل متعارف کرانے کا اعلان کیا تھا۔

قطرنے اس بل کی مخالفت میں ایوان نمائندگان کے ارکان کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی تھی۔اس نے اپنے لابیسٹوں کے ذریعے ایوان نمایندگان کے اسپیکر پال ریان کے دفتر سے اس بل کو روکنے کی اپیل کی تھی لیکن اس کی یہ کوشش رائیگاں چلی گئی تھی اوراس وقت بل پر کانگریس میں بحث جاری ہے۔

ری پبلکن پارٹی کے لیے فنڈز اکٹھا کرنے والے ایلیٹ برائیڈی کا کہنا ہے ’’ قطریوں نے اس بل کو ڈی ریل کرنے کے لیے اپنے لابیسٹوں کے ذریعے ہر ممکن کوشش کی تھی لیکن ان تمام ایشوز کا ابھی حتمی باب لکھا جانا ہے‘‘۔واضح رہے کہ ایلیٹ نے قطر پر اپنی ای میل ہیک کرنے کا الزام عاید کیا تھا اور اب انھوں نے اس کے خلاف مقدمہ دائر کررکھا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں