.

آسٹریا کی وزیر خارجہ نے برطانوی ہم منصب کو "سحر انگیز رقّاص" قرار دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

آسٹریا کی خاتون وزیر خارجہ کیرین کینیسل کا کہنا ہے کہ سفارت کاری "سیاسی مواقف کے تبادلے" سے آگے کی چیز ہے۔ واضح رہے کہ کینیسل کو اپنی شادی کے روز روسی صدر ولادی میر پوتین کے ساتھ رقص کرنے کے سبب وسیع پیمانے پر تنقید کا نشانہ بننا پڑا تھا۔

کینیسل نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے جمعرات کے روز ایک متاثر کُن شام گزاری اور یورپی یونین کے وزراء خارجہ کے اجلاس کے ضمن میں اپنے برطانوی، یونانی، پولش اور رومن ہم منصبوں کے ساتھ سامبا رقص کیا۔

آسٹریا کی وزیر خارجہ نے اپنے برطانوی ہم منصب جیرمی ہنٹ کو "ایک ممتاز اور سحر انگیز رقاص" قرار دیا۔

کینیسل کا کہنا تھا کہ "رقص کا کوئی سیاسی اثر نہیں ہوتا خواہ میں جیرمی ہنٹ کے ساتھ رقص کروں یا کسی بھی دوسرے شخص کے ساتھ"۔

گزشتہ ماہ کیرین کینیسل کی شادی کی تقریب کے دوران روسی صدر پوتین کے ساتھ رقص کی تصاویر نے آسٹریا کی وزیر خارجہ کی غیر جانب داری پر سوالیہ نشانات لگا دیے تھے۔ بعد ازاں اس طرح کی رپورٹیں بھیں سامنے آئی ہیں جن کے مطابق یورپی انٹیلی جنس اداروں نے ویانا میں حکام سے فاصلے اختیار کرنا شروع کر دیے ہیں۔