.

خامنہ ای کی جانب سے عسکری قیادت میں تبدیلی ایران پر ممکنہ فضائی حملے کا پیش خیمہ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تجزیہ کاروں کے مطابق ایرانی رہبرِ اعلی علی خامنہ ای نے حالیہ چند ماہ کے دوران فوج اور پاسداران انقلاب کی قیادت میں بڑے پیمانے پر جو تبدیلیاں کی ہیں وہ ایران کے خلاف ایک جلد ممکنہ عسکری حملے کی علامت ہیں۔

حزب اختلاف کی ویب سائٹ "ایران وائر" نے تجزیہ کاروں کے حوالے سے بتایا ہے کہ مذکورہ تبدیلیاں جنگ کی تیاریوں کے سلسلے میں سامنے آئی ہیں۔

خامنہ ای نے 19 اگست کو ایرانی فضائیہ کے سربراہ جنرل حسن شاہ صفی کو ہٹا کر اُن کی جگہ جنرل عزیز ناصر زادہ کو مقرّر کیا تھا۔ ناصر زادہ 1980ء کی دہائی میں ایران عراق جنگ کے دوران بطور لڑاکا پائلٹ خدمات انجام دے چکے ہیں۔

اسی طرح 20 اگست کو خامنہ ای نے سابق وزیر دفاع بریگڈیئر جنرل حسین دہقان کو جو پاسداران انقلاب کے سینئر رہ نما ہیں، دفاعی صنعت کے امور کے سلسلے میں مسلح افواج کی جنرل کمان کا مشیر مقرّر کر دیا۔

گزشتہ برس علی خامنہ ای نے عسکری قیادت کے پانچ سینئر اہل کاروں کو برطرف کر کے اُن کی جگہ اپنی مقرّب شخصیات کو فائز کیا تھا۔ رہبرِ اعلی نے 29 مئی 2017ء کو بریگیڈیئر جنرل فرزاد اسماعیلی کو ہٹا کر بریگیڈیئر جنرل علی رضا صباحی فرد کو ایرانی فوج کے فضائی دفاع کے ہیڈکوارٹر "خاتم الانبیاء" کا نیا سربراہ مقرر کیا تھا۔ مذکورہ ہیڈاکوارٹر ایرانی مسلح افواج کی کارروائیوں کی منصوبہ بندی اور رابطہ کاری کا نگراں ہے۔

نومبر 2017ء میں ایرانی رہبرِ اعلی نے ایک فرمان جاری کرتے ہوئے فوج کے نائب سربراہ احمد رضا پوردستان کو ہٹا کر اُن کی جگہ بریگیڈیئر جنرل محمد حسین دادرس کو مقرّر کیا تھا۔ اس کے علاوہ ایڈمرل حبیب اللہ سیاری کو بحریہ کی قیادت سے منتقل کر کے ایرانی فوج کا جنرل کوآرڈی نیٹر بنا دیا۔

گزشتہ برس 21 اگست کو خامنہ ای نے ایک فیصلے کے ذریعے ایرانی فوج کے سربراہ جنرل عطاء اللہ صالحی کو برطرف کر کے اُن کی جگہ عبدالرحیم موسوی کو ترقی دے کر فوج کا سربراہ بنا دیا تھا۔

ایرانی فوج کے 4 شعبے ہیں : فضائیہ، بحریہ، زمینی فوج اور شہری دفاع.

خامنہ ای نے جنرل عطاء اللہ صالحی کو 12 برس تک ایرانی فوج کی سربراہی کے بعد ڈپٹی چیف آف اسٹاف کمیٹی منصب پر مقرر کر دیا تھا۔

جون 2016ء میں ایرانی رہبرِ اعلی نے بریگیڈیئر جنرل محمد باقری کو حسن فیروز آبادی کی جگہ چیف آف اسٹاف کمیٹی کا سربراہ بنا دیا جو ایرانی مسلح افواج میں اعلی ترین منصب ہے۔

ایرانی ویب سائٹ "ایران وائر" نے 2017ء میں جاری ایک رپورٹ پوسٹ کی ہے جس کو پاسداران انقلاب کے 48 سینئر عسکری اہل کاروں نے تیار کیا تھا۔ یہ رپورٹ ایرانی فضائی دفاعی نظام کو درپیش ممکنہ خطرات کے حوالے سے تھی۔

رپورٹ میں اُن 15 خطرات پر روشنی ڈالی گئی تھی جو دشمن کی جانب سے پہلی ضرب کی صورت میں واقع ہو سکتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے نزدیک رہبرِ اعلی اور مسلح افواج کے جنرل کمانڈر علی خامنہ ای کی جانب سے ایرانی فوج اور پاسداران انقلاب کی قیادت بالخصوص فضائیہ میں وسیع پیمانے پر یہ تبدیلیاں اُس ممکنہ فضائی حملے کا سامنا کرنے کی تیاریوں کے سلسلے میں ہے جو ایران کے جوہری اور میزائل پروگرام کو روکنے کے مقصد سے کیا جا سکتا ہے۔