.

روس سے S-400 ایئر ڈیفنس سسٹم حاصل کریں گے: ایردوآن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن نے باور کرایا ہے کہ اُن کے ملک کو روس کے "S-400" ایئر ڈیفنس سسٹم کی ضرورت ہے جو ترکی کو جلد فراہم کر دیا جائے گا۔

انہوں نے یہ بات جمعے کے روز ترکی کے مغربی علاقے بالیکسیر میں عسکری افسران کی پاسنگ آؤٹ تقریب کے دوران کہی۔ ترکی کے صدر کا اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کہ انقرہ اور واشنگٹن کے درمیان تعلقات میں کشیدگی نظر آ رہی ہے۔ امریکا نے ترکی کے پاس مذکورہ ایئر ڈیفنس سسٹم کی موجودگی کی مخالفت کی ہے اور اُس نے انقرہ کو F-35 طیاروں کی فراہمی روک دینے کی دھمکی بھی دی ہے۔

ترکی اور روس نے مذکورہ ایئر ڈیفنس سسٹم کے حوالے سے معاہدہ طے پائے جانے کی تصدیق کی ہے۔ واشنگٹن کے نزدیک S-400 میزائلوں کا حصول نیٹو اتحاد کے نظام سے متصادم ہے اور ترکی اس اتحاد سے تعلق رکھتا ہے۔

ایردوآن کا مزید کہنا ہے کہ "اسی طرح ترکی کو F-35 کی بھی ضرورت ہے۔ میں نہیں جانتا کہ وہ (امریکی) ہمیں یہ طیارے دیں گے یا نہیں دیں گے۔ اگر انہوں نے دے دیے تو اس بات کا ثبوت ہو گا کہ وہ اپنے وعدوں کو پورا کرتے ہیں"۔

ترکی اور امریکا کے درمیان تعلقات ترکی میں ایک امریکی پادری اینڈرو برینسن کو حراست میں لیے جانے کے سبب خراب ہوئے۔ برینسن پر جو اس وقت ازمیر میں نظربند ہے، جاسوسی اور "دہشت گرد" کارروائی کے ارتکاب کے الزامات ہیں۔

اس کشیدگی کے باعث ترکی کی کرنسی لیرہ کی قدر میں شدید گراوٹ آئی اور رواں برس کے آغاز کے بعد سے اس کی قیمت میں تقریبا 40% کمی آ چکی ہے۔

ایردوآن کا کہنا تھا کہ "ازمیر میں جاری عدالتی کارروائی کے سبب ترکی کے اقتصادی اور عسکری سیکٹروں کو ڈھیر کرنے کی کوششیں قطعی طور پر ناقابل فہم ہیں"۔