.

صعدہ بس مسلح حوثیوں کی نقل وحمل کے لئے استعمال ہو رہی تھی: تحقیقاتی ٹیم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کی آئینی حکومت کی رٹ بحالی میں مدد کرنے والے عرب اتحاد کی مشترکہ جائزہ ٹیم نے ایک نیوز کانفرنس میں صعدہ کے علاقے ضیحان میں ایک عمارت پر اتحادی لڑاکا طیاروں کی مبینہ بمباری سے متعلق تحقیقات کی رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ انٹلیجنس رپورٹ کی بنیاد پر ضیحان کی عمارت پر فضائی حملہ کیا گیا۔

واقعے کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ ٹیم کے قانونی مشیر منصور المنصور نے نیوز کانفرنس کو بتایا کہ ہم نے ضیحان بلڈنگ پر بمباری کرنے والے لڑاکا جہاز کی ویڈیو فوٹیج کا جائزہ لیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ واقعے کے کئی پہلووں سے کی جانے والی تحقیقات میں حملے کے روز علاقے پر پرواز کرنے والے طیاروں کی ویڈیو فوٹیج کا جائزہ بھی لیا گیا۔

’’حملے کے وقت اتحادیوں کے جو لڑاکا طیارے اس وقت علاقےپر پرواز کر رہے تھے، ہم نے ان سب کی فوٹیجز کا مکمل جائزہ لیا ہے۔‘‘ انھوں نے مزید بتایا کہ اتحادی طیارے کا ضیحان کے ایک کمپلیکس پر حملہ کی بنیاد خفیہ اطلاعات تھیں۔

’’علاقے میں حوثی رہنما کی موجودگی کی اطلاع تھی۔ ذرائع نے اطلاع دی تھی ضحیان بس حوثیوں کے مسلح کارکن کو لے جا رہی تھی۔ ضحیان کے علاقے میں اس بس پر حملے کے نتیجے میں کئی حوثی رہنما ہلاک ہوئے۔‘‘

ضحیان میں کی جانے والی کارروائی میں حوثیوں کے کئی تربیتی کیمپوں کو نشانہ بنایا گیا۔ انھوں نے کہا کہ ضحیان میں بمباری کا نشانہ بننے والے بس قانونی دائرے میں عسکری ہدف تھی کیونکہ وہ مسلح حوثیوں کو جنگی مقاصد کے لئے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے میں استعمال ہو رہی تھی۔

عرب اتحاد کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے قانونی مشیر منصور المنصور نے سعودی دارلحکومت ریاض میں 12 اگست کو کی جانے والی ایک نیوز کانفرنس کو بتایا کہ ہمیں خفیہ ذرائع سے پتا چلا تھا کہ ضیحان کے دور افتادہ الگ تھلگ علاقے کی ایک عمارت کو حوثی فوجی کمانڈر پناہ گاہ کے طور پر استعمال کر رہے تھے۔