.

مجھے ایڈیٹوریل ہال میں زبانی اور جسمانی طور پر ہراساں کیا گیا: مصری صحافیہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر میں ایک خاتون صحافی کو دفتر میں ہراساں کیے جانے کے واقعے پر ذمّے دار افراد کے خلاف سخت غیظ وغضب پایا جارہا ہے۔

تفصیل کے مطابق ایک مشہور مصری روزنامے میں کام کرنے والی صحافیہ مئی الشامی کو ادارے کے ایک سینئر عہدے دار کی جانب سے زبانی اور جسمانی طور پر ہراسیت کا سامنا کرنا پڑا۔ سوشل میڈیا پر سرگرم حلقوں نے مذکورہ عہدے دار کے خلاف قانونی کارروائی اور صحافیوں کی انجمن کی مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔

مئی الشامی نے فیس بک پر لکھا ہے کہ "میں نے اپنے ادارے کے احترام میں اس بات کو ترجیح دی کہ یہ معاملہ منظر عام پر نہ آئے۔مجھے ایڈیٹوریل ہال میں کام کے دوران ایک شخص نے مسلسل ہراساں کیا۔ تاہم میں نے ذرائع ابلاغ یا سوشل میڈیا میں بات کرنے کے بجائے تحقیقات کو بہتر جانا"۔

مئی الشامی کے مطابق واقعے کے متعلق غلط تفصیلات اِفشا ہونے کے بعد انھوں نے وضاحت کے لیے اس کے بارے میں لب کشائی کا فیصلہ کیا۔ انھوں نے بتایا کہ "مجھے زبانی طور پر اور چُھو کر ایڈیٹوریل ہال میں ہراسیت کا نشانہ بنایا گیا"۔

مصری صحافیہ کا کہنا ہے کہ انھیں ادارے کی انتظامیہ کی تحقیقات کا انتظار ہے اور انھیں صحافیوں کی انجمن کی مدد کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔