.

شام کی وادیِ جہنم میں ایران کا میزائل اڈا : سیٹلائٹ تصاویر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران شام میں اپنے نئے میزائل اڈے بنا رہا ہے۔ سیٹلائٹ سے حاصل کردہ تصاویر کے مطابق ان میں ایک میزائل اڈاشام کے مغرب میں واقع علاقے بانیاس میں وادیِ جہنم (درہ جہنم) میں تعمیر کیا جارہا ہے۔

خلائی سیارے سے یہ تصاویر امیج سیٹ انٹرنیشنل نے لی ہیں اور انھیں ایک تفصیلی رپورٹ کے ساتھ جاری کیا ہے۔ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ وادیِ جہنم میں اڈا مختلف قسم کے میزائلوں کی تیاری اور انھیں پرزے جوڑ کر بنانے کے لیے قائم کیا جارہا ہے۔یہ ایران میں پارچین اور خجیر میں واقع فوجی اڈوں کے مشابہ ہے۔

رپورٹ میں یہ امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ ایران میں ان دونوں فوجی اڈوں پر کام کرنے والے عناصر ہی وادیِ جہنم میں اس نئے اڈے کی تعمیر وترقی کا کام کررہے ہیں۔یہ اب اپنے آخری مراحل میں ہے۔اندازے کے مطابق اس کی تعمیر کا کام 2019ء کے ابتدائی مہینوں میں مکمل ہوجائے گا۔

شام کے شمال مغرب میں واقع علاقے مصیاف میں بھی ایک سابق فوجی اڈے میں زمین سے زمین پر مار کرنے والے میزائلوں کی تیاری کا کام کیا جارہا ہے۔اس کو موجودہ شکل میں میزائل سازی کے لیے تبدیل کیا گیا تھا اور یہ اس فوجی اڈے جیسا ہی ہے جس پر سات ستمبر 2017ء کو ا سرائیلی فضائیہ نے حملہ کیا تھا اور اس کو بمباری کرکے تباہ کردیا تھا۔

مصیاف اور وادیِ جہنم کا محل وقوع روسی ساختہ ایس 400 میزائل دفاعی نظام کی تنصیب کی جگہ کے نزدیک واقع ہے جبکہ روس کی مسلح افواج شام میں ہر کہیں موجود ہیں۔

اس رپورٹ میں اس بات کی بھی نشان دہی کی گئی ہے کہ ایران نے ان دونوں تزویراتی جگہوں کا انتخاب شامی رجیم کے مفاد کے مطابق کیا ہے ۔اس نے شام میں خانہ جنگی اور انقلاب میں شدت کے بعد اپنا تزویراتی انفرااسٹرکچر ملک کے شمال کی جانب منتقل کردیا تھا۔

امیج سیٹ انٹرنیشنل کی رپورٹ میں ایرانی وزیر دفاع امیر حاتمی کے گذشتہ اتوار کو شام کے دورے کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔انھوں نے اس موقع پر اعلان کیا تھا کہ ایران شام کی دفاعی صلاحیتوں میں اضافے اور توسیع میں مدد دینے کی صلاحیت کا حامل ہے۔

رپورٹ کے مطابق سیٹلائٹ تصاویر سے یہ واضح پتا چلتا ہے کہ ایران شامی رجیم کے فوجی انفرااسٹرکچر کی تعمیر نو کررہا ہے ۔بالخصوص زمین سے زمین تک مار کرنے والے میزائلوں کی تیاری میں اس کو مدد دے رہا ہے۔

شام میں حالیہ مہینوں کے دوران میں مختلف فوجی تنصیبات پر فضائی حملے کیے گیے ہیں۔ ان میں زیادہ تر حملوں میں شام کے میزائل انفرااسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا تھا اور ایک حملے میں ڈاکٹر عزیز اسبر کو ہد ف بنایا گیا تھا۔وہ شام کے میزائل نظام کی تیاری کے منصوبے کے منتظم تھے۔

ڈاکٹر عزیز اسبر شامی مرکز برائے مطالعات اور تحقیقات کے سیکٹر چار کے انچارج تھے۔ان کے ایران اور لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ سے ایک طویل عرصے سے قریبی تعلقات استوار تھے۔ایران کے ساتھ قریبی تعلقات ہی کی بنا پر ان کے بارے میں یہ بتایا جاتا ہے کہ انھوں نے مسیاف اور وادیِ جہنم میں میزائلوں کی تیاری کی نئی تنصیبات کی تعمیر میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ان دونوں تنصیبات کو ایران کے مقاصد اور شام میں اس کے میزائل سسٹم کے مطابق ڈیزائن کیا گیا تھا۔

رپورٹ میں یہ بات زور دے کر کہی گئی ہے کہ ایران نے اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے شام میں اپنی عسکری سرگرمیاں جاری رکھی ہوئی ہیں اور اس کے بارے میں یہ کہا جار ہا ہے کہ وہ میزائلوں کی تیاری کی ٹیکنالوجی کو شام اور لبنانی حزب اللہ کو منتقل کررہا ہے۔