.

لیبیا : دارالحکومت طرابلس میں متحارب گروپوں میں جھڑپوں کے بعد ہنگامی حالت کا نفاذ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ قومی حکومت ( جی این اے) نے دارالحکومت طرابلس میں تشدد کے واقعات کے بعد اتوار کو ہنگامی حالت نافذ کردی ہے۔

طرابلس اور اس کے نواحی علاقوں میں دو مسلح متحارب گروپوں کے درمیان گذشتہ سوموار سے جاری بھاری ہتھیاروں سے لڑائی میں کم سے کم چالیس افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹیریس نے ہفتے کے روز عالمی ادارے کی ثالثی میں طے پائے جنگ بندی کےسمجھوتے کے تحت طرابلس میں تشدد کے خاتمے کا مطالبہ کیا تھا۔

ان کے دفتر کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق ’’ سیکریٹری جنرل نے لیبیا کے دارالحکومت اور اس کے نواح میں جاری تشدد کے واقعات کی مذمت کی ہے اور بالخصوص انھوں نے مسلح گروپوں کی جانب سے بلا امتیاز گولہ باری کی مذمت کی ہے جس سے بچوں سمیت شہری ہلاک اور زخمی ہور ہے ہیں‘‘۔

دریں اثناء امریکا ، برطانیہ ، فرانس اور اٹلی نے ایک مشترکہ بیان میں طرابلس اور لیبیا کے دوسرے علاقوں میں امن وامان کی صورت حال خراب کرنے والے گروپوں کو خبردار کیا ہے کہ اس طرح کی کارروائیوں پر ان کا احتساب کیا جائے گا‘‘۔

قومی اتحاد کی حکومت کے تحت وزارت دفاع سے وابستہ دومسلح گروپوں کے درمیان گذشتہ سوموار کو طرابلس کے جنوب میں واقع علاقے میں لڑائی شروع ہوئی تھی ۔وہ ٹینکوں اور مشین گنوں سے ایک دوسرے کے خلاف حملے کررہے ہیں۔ان کے درمیان منگل کو جنگ بندی بھی ہوگئی تھی مگر انھوں نے دوبارہ ایک دوسرے کے خلاف حملے شروع کردیے تھے۔لیبیا کی وزارت صحت نے اس لڑائی میں انتالیس افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ ایک سو زیادہ افراد زخمی ہوئے ہیں۔