.

"ہیومن رائٹس واچ" کا ایران سے 30 مظاہرین کی ہلاکت کی تحقیقات کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم "ہیومن رائٹس واچ" نے ایرانی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ رواں برس جنوری سے احتجاجی مظاہروں کے دوران کم از کم 30 افراد کے ہلاک ہونے کی تحقیقات کرائی جائیں۔

تنظیم کے مطابق ایرانی ذمّے داران کی جانب سے مذکورہ اموات یا سکیورٹی اہل کاروں کی طرف سے طاقت کے غیر ضروری استعمال کی شفاف تحقیقات کرائے جانے کے حوالے سے کوئی اشارہ نہیں دیا گیا۔

ہفتے کے روز تنظیم نے ایرانی حکام پر زور دیا کہ وہ پُر امن مجمعے کے سبب مظاہرین کے خلاف تمام الزامات واپس لے لیں اور اس بنیاد پر حراست میں لیے گئے تمام افراد کو رہا کر دیں۔ گزشتہ ماہ 2 اگست کے بعد سے حکام نے صرف تہران میں احتجاج کے دوران 50 سے زیادہ افراد کو حراست میں لیا۔

ہیومن رائٹس واچ میں مشرق وسطی کی ڈائریکٹر سارہ لیا ویٹسن کا کہنا ہے کہ ایرانی حکومت احتجاج کے جواب میں جابرانہ اسلوب کا استعمال کر رہی ہے اور سکیورٹی فورسز کو پوچھ گچھ سے بچا رہی ہے۔

تنظیم کے مطابق ایران میں 31 جولائی سے احتجاج کی نئی لہر سامنے آئی۔ احتجاج کی وجوہات میں بگڑتے ہوئے اقتصادی حالات اور حکومتی بدعنوانی اہم ترین ہیں۔ مذکورہ احتجاجی لہر اصفہان شہر سے اُٹھی اور پھر تیزی کے ساتھ دیگر شہروں تک پھیل گئی جن میں کرج اور دارالحکومت تہران شامل ہے۔

ہیومن رائٹس نے تصدیق کی کہ کرج میں 3 اگست کو عوامی احتجاج کے دوران سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے مظاہرین میں شامل ایک شخص رضا اوتادی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔

تنظیم نے باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ 3 اگست کو ہونے والے احتجاجی سلسلے میں 50 کے قریب افراد گرفتار ہوئے جن کو "فشافوئے" جیل میں انتہائی دشوار گزار حالات میں رکھا گیا ہے۔ ان افراد کو پینے کے صاف پانی کی عدم دستیابی، صفائی کا بدترین انتظام، بیماریوں کے پھیلاؤ اور قیدیوں پر تشدد اور زدوکوب کیے جانے کا سامنا ہے۔

ہیومن رائٹس کا کہنا ہے کہ دسمبر 2017ء سے ایران کے مختلف علاقوں میں احتجاجی مظاہروں کا انعقاد کیا گیا۔ اس دوران حکام نے 4 ہزار کے قریب مظاہرین کو گرفتار کیا جب کہ وزارت انٹیلی جنس نے کم از کم 150 طلبہ کو حراست میں لیا۔ عدالت نے ان میں سے 17 افراد کو جیل کی سزا سنائی۔