.

عراق کے راستے ریلوے ٹریک ایران کے اثر و رسوخ کو بحیرہ روم تک پھیلا دے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران اس وقت ایک ریلوے ٹریک کے منصوبے کا جائزہ لے رہا ہے جو اُسے عراق کے راستے شام میں بحیرہ روم کے ساحل تک پہنچا دے گا۔ اس ٹریک کا مقصد تہران کے عسکری پھیلاؤ اور سکیورٹی اور اقتصادی اثر و رسوخ کی توسیع ہے۔

اس سلسلے میں سڑکوں اور تعمیرات کی ایرانی وزارت کے بین الاقوامی سیکشن کے سربراہ تیمور بشیر نے ہفتے کے روز مہر نیوز ایجنسی کو دیے گئے بیان میں بتایا کہ ایران اور شامی حکومت کے درمیان طے پائے گئے آخری سمجھوتے میں یہ شامل ہے کہ ایران ایک ریلوے ٹریک بچھائے گا جو عراق سے گزرتا ہوا شام میں اختتام پذیر ہو گا۔ تیمور کے مطابق دونوں ملکوں کے درمیان سمجھوتے کے تحت ایرانی کنٹریکٹرز شام میں ذرائع مواصلات بالخصوص ریلوے ٹریکس کے انفرا اسٹرکچر کی مرمت کریں گے۔ ایرانی عہدے دار نے واضح کیا کہ اُن کے ملک نے شامی اور عراقی حکومتوں کے ساتھ اس ریلوے ٹریک کے حوالے سے بات چیت کی ہے جو عراق کے شہر بصرہ سے گزر کر شام میں داخل ہو گا اور پھر البوکمال اور دیر الزور شہر سے گزرے گا۔ تیمور نے بتایا کہ یہ ٹریک ایرانی ٹرانسپورٹ سیکٹر کے لیے کارآمد ثابت ہو گا اور ایران ، عراق اور شام کے درمیان مذہبی سیاحت کو فروغ دے گا۔

اس سے قبل ایرانی نیوز ایجنسی "تسنيم" نے 14 اگست کو اعلان کیا تھا کہ ایران اور شام مغربی پابندیوں کا مقابلہ کرنے کے واسطے دونوں ملکوں کے بیچ عراق کی شراکت سے ایک ریلوے ٹریک قائم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ مذکورہ ایجنسی کے مطابق منصوبے کے تحت اس ریلوے ٹریک کو ایران کے جنوبی صوبے الاہواز کے شہر الشلامجہ سے بڑھا کر عراق میں بصرہ کی بندرگاہ تک پہنچایا جائے گا اور پھر وہاں سے شامی اراضی میں لے جایا جائے گا۔

رواں برس جون میں ایران کے نائب صدر اسحاق جہانگیری نے اعلان کیا تھا کہ ایران کو شام سے ملانے والے اس ریلوے ٹریک کا ایک مرکزی ہدف دونوں ملکوں کے بیچ سیاسی تعلقات کے متوازی زیادہ بہتر تجارتی اور اقتصادی تعلقات کا قیام ہے۔ جہانگیری نے شامی حکومت کے معیشت اور تجارت کے وزیر محمد سامر الخلیل کے استقبال کے موقع پر کہا کہ ایرانی کمپنیاں شام میں تعمیر نو کے عمل میں شریک ہونے کے لیے پوری طرح تیار اور سرگرم ہیں۔

دوسری جانب شامی وزیر سامر الخلیل نے شام اور عراق کو ایک ریلوے ٹریک کے ذریعے ایران سے جوڑنے کے منصوبے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ شامی حکومت ایرانی کمپنیوں کے استقبال اور شام میں ایرانی بینکوں کی شاخیں کھولنے کے واسطے تیار ہے۔

اسی طرح تہران شام کے مغربی صوبے طرطوس کے قصبے الحمیدیہ میں ایک بحری بندرگاہ بنانے پر غور کر رہا ہے۔ اس کا مقصد شام اور ایران کے درمیان تجارتی تبادلے میں اضافہ اور شام میں بحیرہ روم کے پانی تک ایران کی فعّال موجودگی کو یقینی بنانا ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے وہاں روس کے پاس دو عسکری اڈّے موجود ہیں۔

اس منصوبے کے مکمل ہو جانے کی صورت میں میزائلوں اور ہتھیاروں کی منتقلی کے خطرات میں اضافے کے علاوہ شام میں ایران کا اثر و رسوخ بھی بڑھ جائے گا جب کہ اسرائیل نے شام کے مشرق میں امریکی فوج کے باقی رہنے کی اہمیت پر زور دیا ہے تا کہ ایران کی اس عسکری گزر گاہ کے خواب کو پورا ہونے سے روکا جا سکے۔

حالیہ چند ماہ کے دوران شام میں امریکی فوج کی موجودگی نے شام کے دیہی علاقوں میں ایران کے بھاری عسکری وجود کو کم کیا ہے۔ یہاں شام ، اردن اور عراق کے درمیان سرحدی تکون پر التنف کی گزر گاہ کے نزدیک ایرانی پاسداران انقلاب اور اس کے زیر انتظام عراقی اور افغانی ملیشیاؤں کا پھیلاؤ رہتا ہے۔ اس کا مقصد "تہران – بغداد – دمشق – بيروت" کے بیچ اسٹریٹجک لائن کو محفوظ بنانا ہے۔ ایران کے اس عسکری وجود کی قیادت پاسداران کی القدس فورس کے سربراہ قاسم سلیمانی کے پاس ہے اور اس کا مقصد تہران کے "ایرانی ہلال" منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہچانا ہے۔ ایرانی عہدے داران کی جانب سے اس بارہا اس کا اظہار کیا جاتا رہا ہے اور وہ یہ کہہ چکے ہیں کہ ایران کا کنٹرول بحیرہ روم کے ساحلوں تک پہنچ چکا ہے۔

ایرانی نظام کے سینئر عہدے داران اپنے توسیعی اہداف کو چُھپا نہیں رہے۔ ایرانی مجلس خبرگان کے رکن اور ایرانی رہبر اعلی علی خامنہ ای کے ترجمان آیت اللہ احمد علم الہدی نے خراسان میں یہ بیان دیا کہ "ایران کی سرحدیں عراق، شام اور بحیرہ روم کے ساحلوں تک ہو گئی ہیں"۔

ایران اس طرح کے منصوبوں کی فنڈنگ کر رہا ہے جب کہ اسے خود ابتر اقتصادی صورت حال کا سامنا ہے۔ اس حوالے سے قیمتوں میں اضافے ، بے روزگاری اور قوت خرید سے محرومی کے سبب عوامی احتجاج کا لاوا بھی سڑکوں پر نظر آ رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران عسکری مداخلت کے ساتھ سیاسی ، سکیورٹی اور ثقافتی اثر و رسوخ پر اربوں ڈالر خرچ کر کے عراق اور شام میں اپنے قدم جمانے کے بعد اب ان مداخلتوں کے ثمرات سمیٹنے کے لیےکوشاں ہے۔ ایرانی مجلس برائے تشخیص مصلحت نظام کے سکریٹری محسن رضائی ایک سابقہ بیان میں یہ باور کرا چکے ہیں کہ اُن کا ملک شام اور عراق میں خرچ کی گئی ایک ایک پائی واپس لے گا۔ رضائی کے مطابق ایران نے شام میں کانوں سے اتنا فاسفیٹ نکال لیا جو دمشق کے لیے اُس کی مالی امداد کے مساوی ہے۔ اس کے علاوہ ایران بحیرہ روم کے ساحلوں پر صنعت اور زراعت میں سرمایہ کاری کے لیے کوشاں ہے تا کہ اربوں کی رقم کما سکے۔

ایران 2012ء سے شام میں معرکوں کی قیادت کر رہا ہے۔ تہران نے ایرانی پاسداران اور اس کے زیر انتظام ملیشیاؤں کے شام میں 70 ہزار کے قریب جنگجوؤں پر سالانہ 6 ارب ڈالر کے اخراجات برداشت کیے۔ یہ بات اقوام متحدہ میں امریکا کی مستقل خاتون مندوب نکی ہیلے نے روان برس 5 جنوری کو سلامتی کونسل کے ایک اجلاس کے دوران بتائی۔

دوسری جانب ایرانی عوام کے احتجاجی مظاہروں کے دوران یہ مطالبہ سر اٹھا رہا ہے کہ دہشت گردی کی سپورٹ اور شام ، عراق اور یمن میں تہران نواز ملیشیاؤں کی فنڈنگ کی مد میں اربوں ڈالر کے اخراجات کو بند کیا جائے۔