.

ميانمار : روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام کی تحقیقات کرنے والے دو صحافیوں کو 7 برس کی جیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

میانمار میں پیر کے روز ایک عدالت نے معروف برطانوی خبر رساں ایجنسی سے تعلق رکھنے والے دو صحافیوں کو 7 برس قید کی سزا سنا دی۔ مقدمے کے جج کے مطابق (32 سالہ) وا لون اور (28 سالہ) کیاؤ سیو او نے روہنگیا کے خلاف تشدد کی تحقیقات کے دوران ریاستی رازوں سے متعلق قانون کی خلاف ورزی کی ہے۔

جج کا کہنا ہے کہ دونوں افراد نے خفیہ دستاویزات جمع کرنے کے دوران سامراجی دور کے سرکاری رازوں کے قانون کی پامالی کی۔

میانمار میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے رابطہ کار نٹ اوسٹبی نے مطالبہ کیا کہ سرکاری فوج کے ہاتھوں روہینگا مسلمانوں کے قتل عام کے حوالے سے تحقیقات کرنے والے دونوں صحافیوں کو رہا کیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دونوں افراد کو اپنے اہل خانہ کے پاس لوٹنے اور بطور صحافی کام کرنے کی اجازت دی جائے۔

آزادی صحافت کے علم برداروں، اقوام متحدہ، یورپی یونین اور امریکا، کینیڈا اور آسٹریلیا جیسے ممالک نے برطانوی نیوز ایجنسی کے دونوں صحافیوں کو بری کر دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

سزا پانے والے دونوں صحافیوں نے عدالت کو بتایا کہ پولیس کے دو عہدے داران نے انہیں دارالحکومت ینگون کے شمالی علاقے میں ایک ریستوران میں دستاویزات پیش کیں اور اس کے کچھ دیر بعد دیگر افسران نے دونوں صحافیوں کو گرفتار کر لیا۔

سزا کے بعد ایک صحافی وا لون کا کہنا تھا کہ "مجھے کسی خوف کا احساس نہیں ... میں نے کوئی غلط کام نہیں کیا ... مین انصاف، جمہوریت اور آزادی پر یقین رکھتا ہوں"۔

میانمار میں امریکی سفیر اسکوٹ میرسیل کا کہنا ہے کہ "میں نہ صرف دونوں صحافیوں یا اُن کے اہل خانہ کے لیے بلکہ میانمار کے لیے بھی رنج محسوس کر رہا ہوں"۔ سفیر کے مطابق یہ پر اُس شخص کے لیے پریشان کُن امر ہے جس نے میڈیا کی آزادی کے لیے بھرپور کوشش کی۔