.

ایران نے حزب اللہ کو اسلحہ اسمگل کرنے کے کون سے "خفیہ راستے" اپنائے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی نیٹ ورک "فوکس نیوز" نے مغربی انٹیلی جنس ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایران کی جانب سے لبنانی ملیشیا حزب اللہ کو اسلحہ اسمگل کرنے کے غیر متوقع راستوں کا انکشاف ہوا ہے۔

رپورٹ کے مطابق مذکورہ ذرائع نے گزشتہ دو ماہ کے دوران "قسم فارس ایئر" نامی فضائی کمپنی کی دو نایاب نوعیت کی پروازوں کا پتہ چلایا جو تہران سے بیروت کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پہنچی تھیں۔

ان میں پہلی پرواز 9 جولائی کو تھی جب تہران میں ایک بوئنگ 747 طیارے نے ایک فضائی اڈّے سے اڑان بھری۔ طیارہ کچھ دیر کے لیے شامی دارالحکومت دمشق کے ہوائی اڈّے پر رُکا اور پھر لبنان کے مقامی وقت کے مطابق شام 4 بجے یہ طیارہ بیروت کے بین الاقوامی ہوائی اڈّے پر اُتر گیا۔

فوکس نیوز کی رپورٹ کے مطابق اس طیارے نے عام طور پر استعمال میں نہ آنے والے رُوٹ کے ذریعے شمالی لبنان میں پرواز کی۔

لبنانی انٹیلی جنس کے ایک ذریعے نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست پر بتایا کہ "ایرانیوں کی جانب سے اس بات کی کوشش کی جا رہی ہے کہ وہ مغرب کی تعاقب کی قدرت کو چیلنج کرتے ہوئے ایران سے مشرق وسطی اسلحہ اسمگل کرنے کے نئے راستے تلاش کریں"۔

مغربی انٹیلی جنس ذرائع کا کہنا ہے کہ طیارہ ایسا سامان لے کر جا رہا تھا جو لبنان میں ایرانی کارخانوں کے اندر ہتھیاروں کی تیاری میں استعمال ہوتا ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے برطانوی نیوز ایجنسی کی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ ایران نے گزشتہ چند ماہ کے دوران مختصر پہنچ رکھنے والے بیلسٹک میزائل عراق میں شیعہ ملیشیاؤں کو منتقل کیے۔ تاہم بغداد اور تہران نے ان رپورٹوں کی سختی سے تردید کی۔

جہاں تک دوسری پرواز کا تعلق ہے تو اس کا پتہ 2 اگست کو لگایا گیا جب ایرانی طیارے کی پروازQFZ9960 شام 5:59 پر بیروت میں اُتری۔ طیارے نے ڈھائی گھنٹے پہلے تہران کے بین الاقوامی ہوائی اڈّے سے اڑان بھری تھی۔ تاہم اس مرتبہ طیارہ دمشق میں نہیں ٹھہرا اور اُس نے شمالی شام میں ایک بے ضابطہ رُوٹ اختیار کیا۔

مذکورہ "قشم فارس ایئر" کا شمار ایران کی اُن شہری ہوابازی کی فضائی کمپنیوں میں ہوتا ہے جن کو ایرانی پاسداران انقلاب کی جانب سے اسلحے کی اسمگلنگ کے واسطے استعمال کیا جاتا ہے۔

اس کمپنی نے بدانتظامی کے سبب 2013ء میں کام روک دیا تھا۔ تاہم مارچ 2017ء مین اس نے دوبارہ سے آپریشن شروع کر دیا۔ اس کے فضائی بیڑے میں دو بوئنگ 747 طیارے ہیں۔

اس فضائی کمپنی کے مینجمنٹ بورڈ میں 3 افراد ایرانی پاسداران انقلاب کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان کے نام علی نقی گل پرست، حمید رضا پہلوانی اور غلام رضا قاسمی ہیں۔