.

ایران کی معیشت وینزویلا کے تباہ کُن نقش قدم پر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

معروف امریکی جریدے "فوربز" نے ایران کی اقتصادی صورت حال کو انتہائی خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ملک اقتصادی تباہی کے حوالے سے وینزویلا کے نقشِ قدم پر چل رہا ہے۔

جریدے کی رپورٹ میں ایران کی اقتصادی صورت حال کی بربادی کے دو بنیادی اسباب بتائے گئے ہیں۔

پہلا سبب یہ کہ ایرانی حکمراں نظام کے ذمّے داران نے جوہری معاہدے کے تحت آزاد ہونے والی رقم کو لوگوں میں تقسیم کرنے کے بجائے خود ہتھیا لیا۔ حکومت نے نہ تو لوگوں کے معاشی حالات کی بہتری کے لیے اُن کو سپورٹ کی اور نہ پانی کی قلت اور فضا کی آلودگی جیسے مسائل پر رقم خرچ کی۔ اس کے بدلے تمام رقم پاسداران انقلاب اور سخت گیروں کے اثاثوں کے لیے اضافی فنڈنگ میں چلی گئی۔ اس کے نتیجے میں عوام غیض و غضب کا شکار ہو گئے اور انہوں نے احتجاج شروع کر دیا۔

اس حوالے سے دوسرا سبب امریکی صدر کی جانب سے جوہری معاہدے سے علاحدگی کے بعد تہران پر دوبارہ پابندیاں عائد کرنا ہے۔ عنقریب ایران کی تیل کی برآمدات کا سلسلہ رُک جائے گا اور اس کے علاوہ وہ امریکی ڈالر میں لین دین بھی نہیں کر سکے گا۔

نقد کرنسی نہ ہونے کے بیچ غذائی اشیاء اور دیگر بنیادی مصنوعات کی درآمدات کم ہو گئیں۔ اس کے نتیجے میں مہنگائی نے اور پھر سڑکوں پر بپھرے ہوئے عوامی احتجاج نے جنم لیا۔

دونوں بحرانات میں مماثلت

فوربز جریدے کے مطابق وینزویلا میں حالیہ بحران اور ایران کو درپیش بحران کے درمیان بالخصوص اقتصادی پہلو سے مماثلت پائی جاتی ہے جس کے اہم نکات درجِ ذیل ہیں :

• بلیک مارکیٹ میں مقامی کرنسی کے نرخ سرکاری نرخ سے کہیں زیادہ کمزور ہیں.

• وسیع پیمانے پر حکومت کی جانب سے بدعنوانی اور لُوٹ مار کا پھیلاؤ.

• نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری کی بُلند شرح.

• افراطِ زر میں تیزی سے اضافہ.

• ڈالر تک محدود پہنچ کے باعث زر مبادلہ کے ذخائر میں کمی.

• بین الاقوامی سطح پر ملک بے یار و مدد گار، لوگوں کو اپنی ضروریات پوری کرنے میں

بڑھتی ہوئی مشکلات کا سامنا.

ایران اور وینزویلا میں اس حوالے سے بھی مماثلت ہے کہ دونوں ملکوں میں مصدقہ واضح اقتصادی ڈیٹا موجود نہیں ہے۔ بلیک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کا لین دین سرکاری نرخ کے مقابلے میں 150% زیادہ قیمت پر ہو رہا ہے۔

جہاں تک خام تیل کی برآمد کا تعلق ہے تو اگست کے ابتدائی دو ہفتوں کے دوران اس میں کمی واقع ہوئی۔ اس دوران حکام کا دعوی ہے کہ افراطِ زر کی شرح 18% تک پہنچ گئی تاہم ماہرین سمجھتے ہیں کہ حقیقی شرح اس سے دُوگنی ہے۔

فوربز جریدے کے مطابق ایران اس وقت گرداب میں پھنسا ہوا ہے۔ ایک طرف اُسے اقتصادی معاونت کے حصول کے لیے مغرب کا سہارا لینے کی ضرورت ہے تو دوسری طرف وہ اپنی حالیہ مشکلات کے حوالے سے امریکا کو ملامت کا نشانہ بنا رہا ہے جب کہ اقتصادی مسائل میں اضافے کے ساتھ لوگوں کے احتجاج کی آواز بھی بلند ہوتی جا رہی ہے۔

ایسا نظر آتا ہے کہ ایرانی حکومت مزید تنہا ہونے کی جانب جا رہی ہے۔ گزشتہ ہفتے ایرانی رہبر اعلی علی خامنہ ای نے کہا کہ "جوہری سمجھوتا تو ذریعہ ہے مقصد نہیں ،،، اگر ہم اس نتیجے پر پہنچ گئے کہ یہ ہمارے قومی مفادات کے کام آنے والا نہیں تو ہم اس سے دست بردار ہو سکتے ہیں"۔

ایرانی عہدے داران یہ کہہ چکے ہیں کہ اگر ایران امریکی پابندیوں کے نتیجے میں اپنا تیل فروخت نہیں کر سکا تو علاقے میں کسی ریاست کو بھی ایسا نہیں کرنے دیا جائے گا۔

فوربز جریدے کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی میں رکاوٹ ڈالنے کی دھمکی ایران کے لیے محض اندرونی سیاسی بحران ثابت نہیں ہو گا بلکہ اس اقدام کے ایران پر خطر ناک جیوپولیٹیکل نتائج مرتب ہوں گے۔