.

جاپان میں چوتھائی صدی کا شدید ترین طوفان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جاپان میں منگل کے روز دو شہروں کوبے اور اوساکا اور ان کے اطراف علاقوں میں طوفانی بارشوں کے نتیجے میں ٹرین سروس اور فضائی پروازیں معطل ہو گئی ہیں۔

جاپانی حکام کے مطابق منگل کے روز ملک کے مغربی حصّے کے بیچ ٹکرانے والا سمندری طوفان گزشتہ 25 برسوں کا شدید ترین طوفان ہو گا۔ توقع ہے کہ "جیبے" نامی یہ طوفان آج کسی وقت جزیرہ ہونشو سے گزرتا ہوا خشکی سے ٹکرائے گا۔

حکام کا کہنا ہے کہ طوفان کے ساتھ چلنے والی تیز ہوا کی رفتار 220 کلو میٹر فی گھںٹہ تک ہے۔ یہ طوفان وسیع دائرے پر اثر انداز ہو گا جس میں پورا ٹوکیو بھی شامل ہے۔

جاپانی نیوز ایجنسی کیوڈو کے مطابق جاپان میں 1993ء کے بعد خشکی سے ٹکرانے والا یہ طاقت ور ترین طوفان ہو گا۔

ادھر اوساکا شہر میں طوفان کے پیش نظر یونیورسل اسٹوڈیوز اور امریکی قونصل خانے کو بند کر دیا گیا۔ جاپانی وزیراعظم شینزو ایبے نے ملک کے جنوبی جزیرے كيوشو کا دورہ منسوخ کر دیا ہے۔

مذکورہ سمندری طوفان پہلے جزیرہ شیکوکو پہنچا اور اس کے بعد کوبے کے نزدیک ہونشو کی جانب آیا۔

ٹیلی وژن پر دکھائے جانے والے مناظر میں درختوں کی ٹہنیاں زمین پر پڑی ہوئی دکھائی دیں۔

جاپانی ریڈیو کے مطابق موسم کے سبب 700 سے زیادہ اندرونی پروازیں منسوخ کر دی گئیں۔

اس کے علاوہ اوساکا اور ہیروشیما کے شہروں کے درمیان بلٹ ٹرین سروس کو بھی روک دیا گیا ہے۔ اوساکا میں بڑے تجارتی مراکز کو منگل کے روز بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

متاثرہ علاقوں میں واقع کمپنیوں نے اپنے ملازمین کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے گھروں میں رہیں۔ اسی طرح کی ہدایات تعلیمی اداروں نے بھی طلبہ اور اساتذہ کے لیے جاری کی ہے۔

جاپان میں سالانہ کئی طوفان آتے ہیں تاہم حالیہ "جیبے" طوفان اپنی شدت کے سبب اُن طوفانوں سے مختلف نوعیت کا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ یہ طوفان وسیع پیمانے پر تباہی اور نقصانات کا باعث بن سکتا ہے۔

یاد رہے کہ جاپان میں جولائی کے اوائل میں بحر الجزائر میں آنے والے شدید طوفان اور زلزلے کے نتیجے میں 220 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔