.

سوڈان : اسلام پسند وزیر کی لبرل پارٹی کی سربراہ سے شادی پر ہنگامہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کہتے ہیں کہ سیاسی خیالات میں تضاد ازدواجی زندگی میں جذبات کی ہم آہنگی کو راہ میں رکاوٹ نہیں بنتا ہے۔ ایسا ہی کچھ سوڈان میں حکمراں جماعت نیشنل کانگریس سے تعلق رکھنے والے وزیر مملکت احمد ممتاز کی شادی میں نظر آیا جنہوں نے سوڈان لبرل پارٹی کی سربراہ میادہ سوار الذہب کو اپنی دلہن بنا لیا۔

سوڈان میں اپنی نوعیت کی اس پہلی شادی نے ملک میں سوشل میڈیا پر ایک وسیع تنازع پیدا کر دیا جہاں دولہا ایک نمایاں اسلامی رہ نما اور دُلہن لبرل پارٹی کی سربراہ ہے۔

اپنی شادی کے حوالے سے پہلے تبصرے میں میادہ نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد دوسرے کے ساتھ سیاسی اور نظریاتی طور پر قریب ہونا ہے۔ سوڈانی روزنامے "الصيحۃ" کے مطابق انہوں نے باور کرایا کہ سیاسی رہ نماؤں کے درمیان شادی سوڈانی معاشرے کے لیے ایک بہتر نمونہ ہے۔ میادہ کے مطابق سوشل میڈیا پر اس شادی کو سطحی انداز میں زیر بحث لایا جا رہا ہے جس میں کسی قسم کی موضوعیت نہیں پائی جاتی۔

ادھر عرب سوشلسٹ بعث پارٹی کے سرکاری ترجمان محمد ضیاء الدین کا کہنا ہے کہ ایسا کوئی قاعدہ نہیں جس کی بنیاد پر سیاسی طور سے مختلف فریقوں کو رشتہ ازدواج میں منسلک ہونے سے منع کیا جا سکے۔

یاد رہے کہ اسلامی رہ نما اور وزیر مملکت احمد ممتاز پہلے سے شادی شدہ ہیں اور ان کے بیوی بچّے بھی ہیں جب کہ خاتون رہ نما میادہ سوار کی بھی پہلے شادی ہو چکی ہے تاہم انہوں نے علاحدگی اختیار کر لی تھی۔