.

عراق: شہری کی ہلاکت کے بعد بصرہ میں پُرتشدد مظاہرے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے شہر بصرہ میں کل سوموار کو پولیس نے فائرنگ کے نتیجےمیں ایک احتجاجی شہری کی ہلاکت کےبعد پرامن احتجاج پرتشدد مظاہروں میں تبدیل ہوگیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق پولیس کی فائرنگ سے ایک تیس سالہ شہری مکی یاسر الکعبی کی موت کےبعد شہریوں میں شدید غم وغصے کی لہر دوڑ گئی اور کئی مقامات پر حکومت کے خلاف لوگ نعرے لگاتے سڑکوں پر نکل آئے۔

اطلاعات کے مطابق سوموار کے روز البصرہ شہر میں ہونے والے مظاہروں کے دوران مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے براہ راست فائرنگ کی جس کےنتیجے میں ایک شہری ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔ مظاہروں نے کئی مقامات پر ٹائر جلا کر سڑکیں بلاک کردیں۔

وسطی البصرہ میں شاہراہ جمہوریہ پر ایک اور شہری کے مارے جانے کی بھی اطلاعات ہیں۔

عراق میں انسانی حقوق کے ہائی کمیشن نے عدلیہ سے مظاہرین کے قتل کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

بصرہ میں انسانی حقوق کے ہائی کمشن دفتر کے ڈائریکٹر مہدی التمیمی نے’العربیہ ڈاٹ نیٹ’ سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ مکی الکعبی کی ہلاکت کی ذمہ حکومت اور پولیس ہے۔ ہم عدلیہ سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں وہ احتجاج کرنے والے شہری کی موت کی تحقیقات کرکے قتل میں ملوث عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا حکم دیا جائے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ پولیس کی فائرنگ سے ایک شہری کے کندھے پر گولی لگی۔ اسے شدید زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا مگر بہت زیادہ خون بہہ جانے کےنتیجے میں اس کی موت واقع ہو گئی۔