.

برطانیہ کا بچوں تک فحش مواد کی رسائی روکنے کا مطالبہ

80’ ہزار ویب سائیٹس برطانیہ میں بچوں کی جنسی بے راہ روی میں ملوث‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانوی وزیر داخلہ ساجد جاوید نے انٹرنیٹ پر موجود فحش مواد کو ملک کے بچوں کے لیے تباہ کن قرار دیتے ہوئے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے انٹرنیٹ کمپنیوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بچوں تک فحش مواد کی رسائی روکنے کے لیے موثر اقدامات کریں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ 80 ہزار فحش ویب سائیٹ برطانیہ میں بچوں کی جنسی بے راہ روی کا ذریعہ بن رہی ہیں۔

’نیشنل آرگنائزیشن برائے تحفظ اطفال[ان ایس بی سی سی] کے زیراہتمام منعقدہ ایک تقریب سے خطاب میں برطانوی وزیر داخلہ نے کہا کہ میں نے اپنے طور پرگوگل، فیس بُک، مائیکرو سافٹ اور ٹوئٹر کو بچوں تک فحش مواد کی رسائی روکنے کے لیے کوشش کی ہے۔ ان فورمز پر نہ صرف فحش مواد بلکہ دہشت گردی سے متعلق مواد بھی موجود ہے جو ہماری اولادوں کے لیے خطرناک ہے۔

ساجد جاوید کا کہنا تھا کہ میں یہ توقع رکھتا ہوں کہ بچوں کا جنسی استحصال روکنے کی ان کی مہم میں دیگر ادارے اور عالمی کمپنیاں بالخصوص انٹرنیٹ سروسز فراہم کرنے والی کمپنیاں ان کی ہم آواز بنیں گی۔

اُنہوں نے کہا کہ بچوں کے جنسی استحصال یا جنسی بلیک میلنگ سے متعلق پانچ سال کے دوران آٹھ بار شکایات کی گئی۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ بچوں کی اخلاقیات کو تباہ کرنے والی ویب سائیٹ بلاک کی جائیں۔ سماجی رابطوں کی ویب سائیٹس بھی بچوں تک فحش مواد کی رسائی روکنے کے لیے موثر قدامات کریں۔

برطانوی حکومت نے انٹرنیٹ پر جرائم کی روک تھام کے لیے آئندہ 18 ماہ کے دوران 21.5 ملین آسٹریلوی پاؤنڈ کی رقم صرف کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ساجد جاوید نےانکشاف کیا کہ 80 ہزار انٹرنیٹ ویب سائیٹس اور اس کے صارف برطانیہ میں بچوں کے جنسی استحصال کا موجب بن سکتے ہیں۔