.

امریکا کا ایرانی تیل کے خریدار ملکوں کو پابندیوں کی لاٹھی کا اشارہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کا کہنا ہے کہ امریکا اس بات کی توقع رکھتا ہے کہ تمام ممالک ایران سے اپنی خام تیل کی درآمدات روک دیں گے ،،، بصورت دیگر انہیں پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

پومپیو کے مطابق جہاں مناسب ہو گا وہاں واشنگٹن ایرانی تیل خریدنے والوں کے لیے استثناء پر غور کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ کئی ممالک ایسے ہیں جن کو ایران سے تیل کی خریداری کا سلسلہ ختم کرنے میں "بہت تھوڑا وقت" لگے گا۔

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو اور وزیر دفاع جیمز میٹس نئی دہلی کے دورے پر ہیں جہاں انہوں نے جمعرات کے روز بھارت کے سینئر عہدے داران کے ساتھ بات چیت کی۔ بات چیت می توجہ تزویراتی اور سکیورٹی معاملات پر مرکوز رہی۔ علاوزہ ازیں متعدد اختلافی امور بھی زیر بحث آئے جن میں واشنگٹن کا یہ مطالبہ بھی شامل ہے کہ بھارت ایرانی تیل خریدنے سے رُک جائے۔

امریکی وزارت خارجہ کے ایک ذمّے دار نے جمعرات کے روز بتایا کہ امریکا اور بھارت ایرانی تیل کے حوالے سے "بہت تفصیلی بات چیت" کر رہے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رواں برس مئی میں جوہری معاہدے سے علاحدگی کا اعلان کرنے کے بعد ایران پر دوبارہ سے اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کے احکامات جاری کیے۔ جوہری معاہدے پر تہران اور چھ عالمی طاقتوں نے 2015ء میں دستخط کیے تھے۔

اس کے بعد سے امریکا دیگر ممالک کو اس بات پر قائل کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ ایران کو اقتصادی طور پر تنہا کر دیا جائے۔

ٹرمپ کی تمام تر کوششوں کے باوجود بھارت میں حکومتی عہدے داران ایران کے ساتھ بالخصوص تیل کے شعبے میں تجارتی تعلقات جاری رکھنے کی خواہش کا اظہار کر رہے ہیں۔ بھارت تیل درآمد کرنے والا دنیا کا تیسرا بڑا ملک ہے جب کہ چین کے بعد وہ ایرانی خام تیل کا دوسرا سب سے بڑا خریدار ہے۔

ایک بھارتی ذمّے دار نے گزشتہ ماہ برطانوی خبر رساں ایجنسی سے گفتگو میں کہا تھا کہ بھارت ایران سے اپنی درآمدات کا سلسلہ ہر گز نہیں روکے گا تاہم وہ امریکی وزیر خارجہ اور وزیر دفاع کے اپنے بھارتی ہم منصبوں کے ساتھ اعلی سطح کے اجلاس کے بعد خام تیل کی خرید سے متعلق اپنی حکمت عملی کو حتمی شکل دے گا۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی نے گزشتہ ہفتے بتایا تھا کہ بھارت نے سرکاری آئل ریفائننگ کمپنیوں کو ایرانی آئل ٹینکروں کے استعمال اور انشورنش خدمات کے حصول کی اجازت دے دی ہے۔ یہ پیش رفت بھارتی اور مغربی کارگو کمپنیوں کی جانب سے ایران میں اپنا آپریشن کم کرنے کے بعد سامنے آئی۔