.

امریکا کا شمالی کوریا پر غیر معمولی نوعیت کے سائبر حملوں کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے جمعرات کے روز ایک اعلان میں شمالی کوریا پر الزام عائد کیا ہے کہ اُس نے حالیہ چند برسوں میں پیونگ یانگ کے مفاد میں سب سے بڑے سائبر حملے کیے ہیں اور ان حملوں سے دنیا بھر میں لاکھوں افراد متاثر ہوئے اور ان کے نتیجے میں کروڑوں ڈالر غائب ہوئے۔

اگرچہ امریکی اور شمالی کوریائی ذمّے داران کے درمیان تعلقات بہتر ہوئے تاہم امریکا نے 2014ء میں سونی اسٹوڈیو کی ہیکنگ، مالویئر پروگرام 'ویناکرائی' اور بنگلہ دیش کے مرکزی بینک پر سائبر حملے کی تحقیقات جاری رکھیں۔

یہ تمام سائبر حملے پیونگ یانگ سے تعلق رکھنے والے ایک ہیکر گروپ سے منسوب کیے گئے ہیں۔

اس سلسلے میں امریکا نے جمعرات کے روز بیرک جین ہیوک نامی انفارمیشن ڈیولپر کو مورد الزام ٹھہرایا ہے جو شمالی کوریا کی انٹیلی جنس کے ساتھ مربوط ایک کمپنی کے لیے کام کر چکا ہے۔ بیرک کو سائبر حملوں کی کارروائیوں کے لیے شرپسندوں کے گروپ میں شرکت کے الزام کا سامنا ہے۔ اس الزام کے تحت اُسے بیس برس تک کی جیل ہو سکتی ہے۔

کہا جا رہا ہے کہ شمالی کوریا کی حکومت کے مفاد میں کام کرنے والے اس گروپ کے حملوں کے سبب "غیر معمولی" نوعیت کے نقصانات واقع ہوئے۔

امریکی وزارت انصاف کے مطابق گروپ کی کارروائیاں جو کہ شمالی کوریا یا چین سے انجام دی گئیں ان کے نتیجے میں دنیا بھر میں اربوں نہیں تو کروڑوں ڈالروں کا خسارہ تو واقع ہوا۔