.

امریکی وزیر دفاع غیر اعلانیہ دورے پر افغانستان میں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس جمعے کے روز غیر اعلانیہ دورے پر اچانک کابل پہنچ گئے۔ میٹس افغان دارالحکومت میں صدر اشرف غنی کے علاوہ امریکی افواج اور نیٹو کی فورسز کے نئے کمانڈر سے بھی ملاقات کریں گے۔

اس وقت افغانستان میں 14 ہزار امریکی فوجی اہل کار تعینات ہیں جو افغان سکیورٹی فورسز کے تیاری اور سپورٹ کے لیے وہاں موجود نیٹو فورسز کا بنیادی حصّہ ہیں۔

چند ماہ کے دوران یہ جمیز میٹس کا افغانستان کا دوسرا دورہ ہے جب کہ 17 برس سے جاری تنازع فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔

افغان اور امریکی افواج کو طالبان تحریک کے خلاف پیش قدمی میں کامیابی حاصل نہیں ہو سکی جب کہ امن بات چیت کے اجراء کے لیے کوششیں بڑھائی جا رہی ہیں۔

رواں برس جون میں غیر مسبوق نوعیت کی فائر بندی سامنے آئی۔ اس کے بعد جولائی میں امریکی عہدے داران اور افغان طالبان کے نمائندوں کے درمیان ملاقات ہوئی۔ اس پیش رفت نے یہ امید پیدا کر دی تھی کہ مذاکرات کے ذریعے معرکوں کا سلسلہ ختم ہو جائے گا۔ تاہم پھر طالبان تحریک اور داعش تنظیم کی جانب سے سلسلے وار حملوں میں سیکڑوں سکیورٹی اہل کاروں اور شہریوں کی ہلاکت نے ان اُمیدوں کو ختم کر دیا۔