.

اقوام متحدہ کا یمن دفتر حوثیوں کا عریاں طرف دار : رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے ایک تحقیقاتی مرکز نے اپنی رپورٹ میں صنعاء میں اقوام متحدہ کے دفتر پر یمن میں جاری انسانی بحران میں حوثی شیعہ باغیوں اور ایرانی رجیم کی ننگی طرف داری کا الزام عاید کیا ہے۔

اسلامی جمہوریہ ایران کرائم ریسرچ سنٹر اور ایرانی رجیم کی مانیٹرنگ کے لیے قائم امریکی مرکز نے اپنی ویب سائٹ پر پوسٹ کی گئی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ اقوام متحدہ نے ایک ویڈیو حاصل کی تھی ،اس میں اقوام متحدہ کے عالمی خوراک پروگرام کے ایک ٹرک پر مارٹر حملے کا منظر دیکھا جاسکتا ہے۔اس ویڈیو کلپ میں حوثی ملیشیا کے ارکان کی آوازیں بھی سنی جاسکتی ہیں اور وہ نعرے بازی کررہے ہیں۔

لیکن اس واقعے کے بارے میں جب اقوام متحدہ کے عالمی خوراک پروگرام نے پریس ریلیز جاری کی تو اس میں حوثیوں کے اس حملے میں ملوث ہونے کا کوئی ذکر نہیں تھا۔امریکی مرکز کہنا ہے کہ یمن میں اقوام متحدہ کا دفتر اس واقعے سے قبل بھی حوثیوں اور ان کے اتحادیوں کی متعصبانہ طرف داری کرتا رہا ہے۔

یادرہے کہ حوثی ملیشیا نے 2006ء میں صنعا ء کی شاہراہوں پر حکومت کے خلاف ایک مارچ کیا تھا اور اپنے عسکری لیڈر محمد علی الحوثی کے حق میں نعرے بازی کی تھی ۔ امریکی مرکز کے مطابق اس وقت یمن میں اقوام متحدہ کے انسانی امور کے رابطہ کار جارج خورے اچانک اس مارچ میں نمودار ہوئے تھے اور انھوں نے اس کے شرکاء کے سامنے حوثیوں کی حمایت میں تقریر بھی کی تھی۔یہ اقوام متحدہ کے کسی عہدہ دار کی جانب سے حوثیوں کی اس طرح ننگی طرف داری کی ایک منفرد مثال تھی۔

اقوام متحدہ کی متعصبانہ طرف داری یہیں پہ ختم نہیں ہوئی تھی بلکہ یہ سلسلہ وقت کے ساتھ آگے بڑھتا رہا ہے۔امریکی مرکز کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے ایک قریبی رویدہ الحاج یمن میں اقوام متحدہ کے دفاتر کو صنعاء سے بیروت منتقل کرنے کی تیاری کررہے ہیں جبکہ یمن کی قانونی حکومت اس اقدام کے خلاف سراپا احتجاج بنی ہوئی ہے۔

دوسری جانب اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے بھی اس منصوبے پر کوئی اعتراض نہیں کیا بلکہ اس کی تائید کردی ہے۔