.

بشار الاسد کی طرف سے کیمیائی ہتھیار کے استعمال کا امکان، واشنگٹن کا جوابی آپشنز پر غور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کی جوائنٹ اسٹاف کمیٹی کے چیئرمین جنرل جوزف ڈینفور کا کہنا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ اُن عسکری آپشنز کے حوالے سے "روٹین کی بات چیت" کا سلسلہ جاری رہے جو شام کی جانب سے اِدلِب پر متوقع حملے میں کیمیائی ہتھیار کے استعمال کے حوالے سے واشنگٹن کی تنبیہ نظرانداز کرنے کی صورت میں اختیار کیے جا سکتے ہیں۔

ہفتے کے روز ڈینفور نے واضح کیا کہ امریکا نے ابھی تک شام میں کسی بھی کیمیائی حملے کے جواب میں فوجی قوت استعمال کرنے کا فیصلہ نہیں کیا ہے ،،، تاہم صدر ٹرمپ کے ساتھ روٹین کی بات چیت جاری ہے تا کہ وہ جان سکیں کہ کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے کی صورت میں کیا منصوبہ بندی ہو گی۔

بھارت کے دورے پر آئے ہوئے جنرل ڈینفور کے مطابق صدر ٹرمپ کو ممکنہ عسکری آپشنز کے حوالے سے تازہ ترین پیش رفت سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔

گزشتہ ہفتے ایک سینئر امریکی ایلچی نے بتایا تھا کہ اس بات کے "بہت سے ثبوت ہیں" کہ بشار کی فوج اِدلب کے لیے کیمیائی ہتھیاروں کی تیاری کر رہی ہے۔

وہائٹ ہاؤس پہلے ہی خبردار کر چکا ہے کہ اگر شام کی سرکاری فوج نے اِدلب میں کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیا تو امریکا اور اس کے اتحادی "فوری اور بھرپور" جواب دیں گے۔

ٹرمپ نے اپریل 2017ء اور اپریل 2018ء میں کیمیائی ہتھیاروں کے مبینہ استعمال کے سبب شام کو دو مرتبہ بم باری کا نشانہ بنایا۔

فرانسیسی فوج کے سربراہ نے بھی گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ اِدلب میں کیمیائی ہتھیار استعمال کیے گئے تو اُن کی فوج شامی اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے تیار ہے۔

امریکی جنرل ڈینفور کے مطابق گزشتہ روز روس، ترکی اور ایران کا کسی حل تک نہ پہنچنا یقینا مایوسی کا باعث ہے تاہم غالبا یہ حیران کُن نہیں۔

امریکی جنرل نے اِدلب میں انسانی المیے کے وقوع کے امکان سے خبردار کیا اور نصیحت کی کہ متبادل راستے کے طور پر وہاں موجود شدت پسندوں کے گرد گھیرا تنگ کیا جائے۔ اُن کے مطابق اِدلب میں انسداد دہشت گردی کے لیے روایتی ضخیم عسکری کارروائی سے زیادہ فعال وسائل موجود ہیں۔