.

حوثیوں کی بند کمرے میں کہی باتوں پر اعتبار نہیں: یمنی وزیر خارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمنی وزیر خارجہ خالد الیمانی نے ایک مرتبہ پھر حوثی ملیشیا کے وفد پر اقوام متحدہ کے زیر اہتمام جنیوا امن مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کا الزام عاید کیا ہے اور کہا ہے کہ اس نے اقوام متحدہ سے بند کمرے میں جو کچھ کہا ہے،اس پر انھیں کوئی اعتبار نہیں ہے۔

انھوں نے جنیوا سے یمنی حکومت کے وفد کی وطن واپس کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ ہم یہ چاہتے ہیں، اقوام متحدہ دوسرے فریق کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے پختہ عزم کا مظاہرہ کرے‘‘۔

واضح رہے کہ حوثیوں نے اقوام متحدہ کو مطالبات کی ایک فہرست پیش کی تھی اور ان کے پورا ہونے تک صنعاء سے جنیوا مذاکرات میں شرکت کے لیے روانہ ہونے سے انکار کردیا تھا۔ان مذاکرات کا جمعہ کو آغاز ہونا تھا لیکن اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برائے یمن مارٹن گریفتھس نے حوثیو ں کے تاخیری حربوں اور حیلے بہانوں کے بعد انھیں غیر معینہ مدت کے لیے منسوخ کردیا ہے۔

یمنی وزیر خارجہ نے ان کے اس فیصلے سے اتفاق نہیں کیا اور کہا ہے کہ اقوام متحدہ کے ایلچی نے ہمارے ساتھ بات چیت میں تو حوثیوں پر تنقید کی تھی لیکن ایک نیوز کانفرنس میں مذاکرات میں ان کی عدم موجودگی کا جواز پیش کیا تھا۔

خالد الیمانی سے قبل مارٹن گریفتھس نے ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ ’’ یہ ان ( حوثیوں) پر منحصر ہے کہ وہ یہاں آئیں۔ ہم نے انھیں یہاں لانے کے لیے کوئی شرائط عاید نہیں کی ہیں‘‘۔ تاہم انھوں نے اپنی اس بات کی وضاحت نہیں کی تھی۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ حوثیوں کی عدم شرکت مذاکراتی عمل میں تعطل کی مظہر نہیں ۔عالمی ایلچی کا کہنا تھا کہ وہ بہت جلد صنعاء یا اومان کے دارالحکومت مسقط میں حوثیوں کے نمائندوں سے ملاقات کریں گے۔

حوثیوں کی شرائط

قبل ازیں یمنی وزیر اطلاعات معمر الاریانی نے حوثیوں پر جنیوا مذاکرات میں شرکت کے لیے صنعاء سے روانہ نہ ہونے پر سخت غصے کا اظہار کیا تھا۔انھوں نے کہا کہ ’’ حوثی لیڈر نے اپنے وفد کو تیسرے روز بھی سفر پر روانہ ہونے سے روک دیا ہے اور اسے یہ کہا ہے کہ’’ جب تک حزب اللہ ، ایرانی فوجی ماہرین ا ور زخمی عناصر کو ( جنگ زدہ علاقوں سے) نکالا نہیں جاتا،اس وقت وہ مذاکرات کے لیے جنیوا نہ جائے‘‘۔

انھوں نے جمعہ کو سلسلہ وار ٹویٹس میں کہا تھا کہ ’’ اقوام متحدہ کے ایلچی مارٹن گریفتھس اور اقوام متحدہ کی یمن میں جاری بحران کے پُرامن حل کے لیے کوششیں خطرے سے دوچار ہیں۔اب تک گریفتھس اور ان کی ٹیم نے حوثی وفد کی جنیوا مذاکرات اور یمن میں جاری بحران کے حل میں رکاوٹیں ڈالنے کے حربوں سے متعلق جو بھی موقف اختیار کیا ہے ، وہ خود ایک سوالیہ نشان ہے‘‘۔