.

فلم میں ایردوآن کو موت کے گھاٹ اتارے جانے کا منظر، پروڈیوسر کو 6 برس کی قید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی میں ایک فلم میں صدر رجب طیب ایردوآن کے موت کے گھاٹ اتارے جانے کا منظر دکھانے پر فلم کے پروڈیوسر کو عدالت نے 6 سال اور 3 ماہ قید کی سزا سنا دی۔ تفصیلات کے مطابق Uyanış نامی فلم میں دو برس قبل ایردوآن کو درپیش انقلاب کی کوشش سے متعلق واقعات پیش کیے گئے ہیں۔

فلم میں ترکی کے صدر کی موت کے منظر کے سبب ترک سکیورٹی فورسز نے گزشتہ برس فلم کے پروڈیوسر Ali Avci کو گرفتار کر لیا تھا۔ اس دوران حراست میں رکھ کر اس کے خلاف مقدمہ چلا جس کا فیصلہ گزشتہ روز استنبول کی عدالت نے سُنا دیا۔

فلم کے دوران ایک منظر میں پہلے انقرہ کے صدارتی محل پر حملہ دکھایا گیا جس میں وہاں موجود تمام فوجی اور ملازمین ہلاک ہو گئے۔ اس کے بعد ایک فوجی افسر محل کی بالائی منزل پر پہنچ کر اُس جگہ کا رخ کرتا ہے جہاں صدر "ایردوآن" کو گرفتاری کے بعد رکھا گیا تھا۔

دو پہرے داروں کی کڑی نگرانی میں ترک صدر نے زندگی کی آخری نماز ادا کی۔ اس کے بعد مذکورہ افسر آگے بڑھ کر پستول "ایردوآن" کے سر کے پچھلے حصّے پر رکھ دیتا ہے۔ اس کے بعد سیاہ منظر اسکرین پر چھا جاتا ہے جو اس جانب اشارہ ہے کہ ترکی کے صدر کو گولی مار کر موت کی نیند سُلا دیا گیا۔

فلم کے اس منظر نے ترکی میں تنازع کے ساتھ خاص طور پر ایردوآن کے غصّے کو بھی بھڑکا دیا۔ استنبول میں جمعے کے روز عدالت نے اپنے فیصلے میں فلم کے پروڈیوسر Ali Avci کو ایک دہشت گرد جماعت سے تعلق رکھنے کے الزام میں قصور وار ٹھہرایا۔ عدالت کا اشارہ "الحزمت" نامی تحریک کی جانب تھا جس کی سربراہی ترک مذہبی شخصیت فتح اللہ گولن کے ہاتھوں میں ہے۔

گولن 1999ء سے امریکا میں جلا وطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ انقرہ حکومت گولن کی جماعت کو 2016ء میں ہونے والی انقلابی کوشش کا ذمّے دار ٹھہراتی ہے۔ انقلاب کی اس ناکام کوشش کے دوران 250 ترک شہری ہلاک ہو گئے تھے۔

فلم کے پروڈیوسر Ali Avci نے عدالت میں اپنا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ "اُس کا انقلاب کی ناکام کوشش سے کوئی تعلق نہیں۔ اگر وہ ایردوآن کے خلاف ہوتا تو فلم کے منظر میں ترک صدر کو نماز پڑھتا ہوا دکھانے کے بجائے شاہی محل سے ایردوآن کے فرار کا منظر دکھاتا"۔

تاہم عدالت نے ملزم کا عُذر مسترد کرتے ہوئے اُسے ناکام انقلاب کے مقاصد کو پھیلانے کے حوالے سے قصور وار ٹھہرا دیا۔

یاد رہے کہ جولائی 2016ء میں انقلاب کی ناکام کوشش کے سبب 50 ہزار افراد کو گرفتار کیا گیا جن کے خلاف عدالتی کارروائی معلّق ہے۔ اس کے علاوہ مختلف شعبوں میں کام کرنے والے 1.5 لاکھ سرکاری ملازمین کو معطّل اور برطرف بھی کیا گیا جن میں فوجیوں، ججوں اور اساتذہ کی ایک بڑی تعداد ہے۔