.

ملک کے حالات خطرناک اور دشوار ہیں : ایران کے نائب صدر کا اقرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی صدر حسن روحانی کے نائب اسحاق جہانگیری کا کہنا ہے کہ ملک کے حالات "خطرناک اور دشوار" ہیں۔ انہوں نے باور کرایا کہ امریکی پابندیوں کا مقصد ایران کی معیشت کو تباہ کرنا ہے۔

ایرانی نیوز ایجنسی "اِرنا" کے مطابق پیر کے روز جامعات اور اعلی تعلیم کے اداروں کے سربراہان کے ساتھ اجلاس کے دوران جہانگیری نے کہا کہ "امریکی انتظامیہ ایران کے ساتھ عسکری جنگ میں داخل نہیں ہونا چاہتی مگر اُس نے نرم جنگ چھیڑ رکھی ہے"۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکا سمجھتا ہے کہ وہ ایک برتر معیشت رکھتا ہے، وہ ایران پر دباؤ کے واسطے استعمال کرنے کے لیے ممالک کو ادائیگی کر رہا ہے، دوسرے پہلو سے وہ اپنی میڈیا کی طاقت کو ایرانیوں کی سوچ پر اثر انداز ہونے کے لیے استعمال میں لا رہا ہے۔

جہانگیری کا یہ بھی کہنا تھا کہ "ایرانی تیل کی فروخت کم ہو جائے گی اور اس کے بعد گزشتہ برس کے مقابلے میں ملکی بجٹ بھی کم ہو گا مگر ہم اس کی تلافی ایسے طریقے سے کرنے کی کوشش کریں گے جس سے ادارے متاثر نہ ہوں"۔

ایرانی روزنامے "ہمدلی" نے گزشتہ روز اتوار کو اپنی ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ ایرانی منڈیوں میں قیمتوں میں اضافے کے رجحان نے مستقبل کے حوالے سے ایرانی شہریوں کی تشویش کو بڑھا دیا ہے۔ اخبار نے قیمتوں میں اضافے کے باوجود ایرانیوں کی جانب سے اشیاء اور سامان خریدنے میں جلد بازی کو اس امر کے ساتھ جوڑا ہے کہ حکومتی پالیسیوں کے سبب لوگوں کے اندر مستقبل کے حوالے سے شدید اضطرابیت اور قحط سالی کا خوف پایا جاتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق لوگوں نے امریکی پابندیاں جاری رہنے کے ساتھ قیمتوں میں کئی گُنا اضافے اور قلت کے اندیشے کے سبب اشیاء خورد و نوش اور بنیادی ضرورت کی چیزیں ذخیرہ کرنا شروع کر دی ہیں۔