.

واشنگٹن نے فضائی کمپنیوں کو ایران کی فضائی حدود کے استعمال سے خبردار کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کی جانب سے جاری نئی ہدایات میں فضائی کمپنیوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ایران کی فضائی حدود میں پرواز کے دوران خبردار رہیں کیوں کہ دسمبر 2017ء میں ایک امریکی کمپنی کے شہری طیارے کی شناخت نہ ہونے پر لڑاکا طیاروں کی جانب سے اُس کے راستے میں رخنہ اندازی کی گئی تھی۔

نئی ہدایات میں بتایا گیا ہے کہ شام میں تنازع سے مربوط عسکری سرگرمیاں بھی ایران کی فضائی حدود یا اُس کے راستے انجام پا رہی ہیں۔

رواں برس مئی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تاریخی جوہری معاہدے سے علاحدگی اور گزشتہ ماہ ایران پر دوبارہ پابندیاں عائد ہونے کے بعد ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو گیا ہے۔

ایوی ایشن سروسز بیورو کا کہنا ہے کہ ایرانی فضائی حدود کے راستے پروازوں کی منصوبہ بندی کے وقت امریکا اور ایران کے درمیان بگڑے تعلقات کو مدّ نظر رکھا جانا چاہیے۔

بیورو نے جس کا صدر دفتر امریکا میں ہے ایک ای میل پیغام میں اپنے صارفین سے کہا ہے کہ "اگرچہ گزشتہ برس نومبر میں عراق کی فضائی حدود کے دوبارہ کھولے جانے کے بعد پروازوں کے رُوٹس کے حوالے سے نئے آپشن سامنے آ گئے ہیں۔ لہذا فضائی کمپنیوں کو ایران کے مقابلے میں عراق کو ترجیح دینے کا سوچنا ہو گا"۔

امریکی وزارت خارجہ نے گرفتاریوں اور جبری حراست کے خطرے کے سبب اپنے شہریوں کو ایران کا سفر نہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسی طرح وزارت خارجہ نے دہشت گردی اور مسلح تنازع کے خطرات کے پیش نظر امریکی شہریوں پر عراق کے سفر سے بھی گریز کرنے پر زور دیا ہے۔