.

امریکا کے ساتھ ہمارے تعلقات آج بدترین حالت میں ہیں: روس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاؤروف نے امریکا کی "پہلے پابندیاں عائد کرنے اور پھر مذاکرات" کی پالیسی کی سخت مذمت کی ہے۔ لاؤروف کا یہ موقف دونوں ملکوں کے درمیان پھر سے جنم لینے والی کشیدگی اور تناؤ کے بیچ سامنے آیا ہے۔

روس کے شہر ولادیوستوک میں ایک اقتصادی فورم کے ضمن میں خطاب کرتے ہوئے لاؤروف کا کہنا تھا کہ "زیادہ تر حالات میں امریکا واقعتا بات چیت شروع کرنے کے لیے مستعد نہیں ہوتا"۔

روسی وزیر خارجہ کے مطابق امریکی "ابتدا میں پابندیوں کا اعلان کرتے ہیں، پھر مزید پابندیوں کا اور پھر محض مذاکرات کی طرف چلے جاتے ہیں"۔

لاؤروف کے مطابق معاملہ صرف روس اور امریکا کے تعلقات تک محدود نہیں جو آج بدترین حالت میں ہیں... یہ ہی معاملہ شمالی کوریا اور یورپی یونین کے ساتھ رہا اور چین کے ساتھ بھی تجارتی جنگ چل رہی ہے"۔

روسی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ "میں نہیں سمجھتا کہ ہم طویل میعاد میں اس پالیسی کے کامیاب ہونے کی توقع رکھیں"۔

یاد رہے کہ امریکا نے یوکرین کے بحران میں روس کے کردار کے باعث 2014ء سے ماسکو پر کڑی اقتصادی پابندیاں عائد کر رکھی ہیں"۔

رواں برس اگست کے اواخر سے روس پر پابندیوں کا ایک نیا مجموعہ نافذ العمل ہو گیا جب برطانیہ میں سابق روسی انٹیلی جنس کے ایجنٹ کو زہر دیے جانے کی رپورٹیں موصول ہوئیں۔

واشنگٹن اور لندن زہر دینے کے عمل کو کرملین کی طرف منسوب کرتے ہیں جب کہ ماسکو اس کی سختی سے تردید کرتا ہے۔

امریکا نے اگست میں بعض روسی اداروں پر بھی پابندیاں عائد کیں جن کے بارے میں شُبہ تھا کہ وہ انفارمیشن ہیکنگ یا شمالی کوریا کے ساتھ تجارتی سرگرمیوں میں ملوث ہے جب کہ پیونگ یانگ پر بین الاقوامی طور پر پابندی عائد ہے۔