.

ایران کی معیشت 3 ماہ میں ڈھیر ہو جائے گی : صدر تہران چیمبر آف کامرس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی دارالحکومت تہران کے چیمبر آف کامرس کے صدر مسعود خوانساری نے خبردار کیا ہے کہ اگر ملکی صورت حال اسی طرح جاری رہی تو 3 ماہ کے اندر ایران کی معیشت ڈھیر ہو جائے گی۔

نیوز ایجنسی "مہر" کے مطابق دارالحکومت میں منگل کے روز چیمبر آف کامرس، انڈسٹری اور ایگری کلچر کے نمائندوں کے ساتھ اجلاس کے دوران خوانساری کا کہنا تھا کہ ایران کی اقتصادی صورت حال یونہی رہی تو آئندہ تین ماہ میں ملک کو بنیادی ضروریات کی اشیاء اور سامان کی قلت کا سامنا ہو گا۔

انہوں نے باور کرایا کہ پیداوار کے ذمّے داران کو کسٹم کے ذریعے درآمد میں مشکلات کا سامنا ہے جہاں ان کے سامان کو اجازت نامے نہیں مل رہے۔ خوانساری کے مطابق اس سامان کا حجم 1.39 لاکھ کنٹینرز ہیں جن میں 70 لاکھ ٹن سامان اور 52 لاکھ ٹن بنیادی ضروریات کی اشیاء ہیں۔ انہوں نے حالات کے بگاڑ پر کسی قسم کا استفسار نہ کیے جانے کے سبب حکومتی اداروں اور عدلیہ کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔

اس سے قبل ایران کے نائب صدر اسحاق جہانگیری نے پیر کے روز خبردار کیا تھا کہ ملکی حالات "خطرناک اور دشوار" ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی پابندیوں کا مقصد ایرانی معیشت کو تباہ کرنا ہے۔

ایرانی روزنامے "ہمدلی" نے گزشتہ روز اتوار کو اپنی ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ ایرانی منڈیوں میں قیمتوں میں اضافے کے رجحان نے مستقبل کے حوالے سے ایرانی شہریوں کی تشویش کو بڑھا دیا ہے۔ اخبار نے قیمتوں میں اضافے کے باوجود ایرانیوں کی جانب سے اشیاء اور سامان خریدنے میں جلد بازی کو اس امر کے ساتھ جوڑا ہے کہ حکومتی پالیسیوں کے سبب لوگوں کے اندر مستقبل کے حوالے سے شدید اضطرابیت اور قحط سالی کا خوف پایا جاتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق لوگوں نے امریکی پابندیاں جاری رہنے کے ساتھ قیمتوں میں کئی گُنا اضافے اور قلت کے اندیشے کے سبب اشیاء خورد و نوش اور بنیادی ضرورت کی چیزیں ذخیرہ کرنا شروع کر دی ہیں۔