.

ایرانی سیاست ومعیشت کا ’’دھڑکتا دل ‘‘تہران کا بازارِ سلطانی غیر یقینی صورت حال سے دوچار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرا ن پر امریکا کی پابندیوں کے دوبارہ نفاذ ، ملکی کرنسی ریال کی قدر میں حالیہ مہینوں کے دوران میں نمایاں کمی اور بے روزگاری ، افراطِ زر اور پست معیارِ زندگی کے خلاف حالیہ ملک گیر مظاہروں کے بعد تہران کا تاریخی بازارِ سلطانی بھی کساد بازاری کا شکار ہوچکا ہے ۔

بازارِ سلطانی میں کاروبار کرنے والے ایرانی تاجر اپنے ملک کی داخلی سیاست کو ابتر معاشی مسائل کا براہ راست ذمے دار قرار دیتے ہیں۔ وہ سرعام حکومت کو کوسنے دیتے ہیں۔ان کے ہاں گاہکوں کا وہ رش نہیں جو کبھی ہوتا تھا اورکھوے سے کھوا چھلتا تھا۔بازارِ سلطانی صدیوں سے ایران کی اقتصادی اور سیاسی زندگی دونوں کا دھڑکتا دل رہا ہے لیکن اب ایرانی شہری خریداری کے لیے تہران کے شمال میں واقع مغربی طرز کے میگامال کا رُخ کررہے ہیں۔

اس بازار میں کاروبار کرنے والے والے تاجروں اور وہاں مقیم خاندانوں نے ایران کے سابق شاہ رضا پہلوی کی حکومت کی مخالفت کی تھی اور 1979ء میں ان کی حکومت کو گرانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ان کی جگہ پھر اہلِ تشیع کی مذہبی حکومت اور منتخب حکام نے لے لی تھی۔

جون میں بازارِ سلطانی میں کئی روز تک ہزاروں مظاہرین نے اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے اور ریال کی قدر میں ڈالر کے مقابلے میں کمی کے خلاف احتجاج کیا تھا۔ ان مظاہرین نے اپنے نعروں کا رُخ ایرانی قیادت کی طرف بھی موڑ دیا تھا اور انھوں نے ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ علی خامنہ ای کی قیادت میں نظام کے خلاف سخت نعرے بازی کی تھی۔

اس وقت ایرانی کرنسی کی قدر مزید گر چکی ہے۔ایک ڈالر ڈیڑھ لاکھ ریال کا ہوچکا ہے۔بہت سے ماہرین کا خیال ہے کہ نومبر میں جب ایران کی تیل کی صنعت پر امریکا کی مزید پابندیاں عاید ہوں گی تو ایرانی ریال کی قدر میں مزید کمی واقع ہوجائے گی۔ ٹرمپ انتظامیہ اس بات سے تو انکار کرتی ہے کہ وہ اقتصادی دباؤ کے ذریعے ایرانی حکومت کو گرانا چاہتی ہے۔تاہم ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ان دونوں میں باہمی تعلق بالکل واضح ہے۔

ایرانی معیشت کی زبوں حالی کے پیش نظر بہت سے شہریوں نے حالیہ دنوں میں بازارِ سلطانی کا رُخ کیا ہے اور وہ آنے والے مشکل حالات سے قبل اپنی جمع پونجی سے زیادہ سے زیادہ خریداری کرنا چاہتے ہیں کیونکہ ریال کی قدر میں مزید کمی سے اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوجائے گا اور ان کے لیے انھیں خرید کرنا مشکل ہوجائے گا۔

اس صورت حال میں بازارِ سلطانی میں کاروبار کرنے والے بعض دکان دار اپنا سب کچھ فروخت کر کے یورپی ممالک کا رُخ کررہے ہیں۔ایک دکان دار امید فرہادی کا کہنا تھا کہ ’’ اس ملک میں قیمتوں میں کوئی استحکام نہیں رہاہے۔رات کو ایک بندہ جب سوتا ہے تو ایک کار کی قیمت 10 کروڑ ریال ہوتی ہے ، صبح کو جب وہ بیدار ہوتا ہے تو اسی کار کی قیمت 14 کروڑ ریال ہوچکی ہوتی ہے‘‘۔

فرہادی کا کہنا تھا کہ وہ بہت جلد اپنا کاروبار سمیٹ کر اور ترک وطن کرکے نیدر لینڈز جانا چاہتے ہیں۔انھوں نے ایران کے باقی دنیا سے تعلقات کو ملک کی ابتر ہوتی معیشت کا ذمے دار قرار دیا ہے اور ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ ان کی طرح وسائل کے حامل ہیں ، وہ نقل مکانی کر کے یورپی ممالک جانا چاہتے ہیں تاکہ وہاں بہتر زندگی گزار سکیں۔

فرہادی کی دکان پر موجود ایک سیلز مین علی رضا علی حسینی نے امریکی خبررساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ ( اے پی) کے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہمارے 90 فی صد مسائل اربابِ اقتدار کے درمیان باہمی کشمکش کا نتیجہ ہیں۔سپریم لیڈر اور حکومت کے درمیان اختلافات پائے جاتے ہیں اور یہ 10 سے 15 فی صد اختلافات امریکا کی وجہ سے ہیں‘‘۔

ایک اور ایرانی محمد زادہ نے ایران کی شام میں جاری خانہ جنگی میں مہنگی غیرملکی مداخلت کو بھی ملک کو درپیش مسائل کا سبب قرار دیا ہے او ر کہا ہے کہ شام میں جو رقوم بھیجی جارہی ہیں ، وہ عوام ہی کی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’ جب ہم نے امریکی صدر براک اوباما کے ساتھ امن قائم کرلیا تھا تو ہم اتنے سستے کبھی نہیں ہوئے تھے‘‘۔

ان کا اشارہ جولائی 2015ء میں ایران اور چھے بڑی طاقتوں کے درمیان طے پائے جوہری سمجھوتے کی جانب تھا۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مئی میں اس سمجھوتے سے دستبردار ہونے کا اعلان کردیا تھا اور ایران کے خلاف دوبارہ اقتصادی پابندیاں عاید کردی تھیں۔