.

امارات میں تارکینِ وطن کو ریٹائرمنٹ کے بعد لمبے عرصے کے لیے قیام کی اجازت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات کی حکومت نے غیرملکی تارکینِ وطن کو ملازمتوں سے ریٹائرمنٹ کے بعد ملک میں ایک طویل عرصے کے لیے رہنے کی اجازت دے دی ہے۔

یو اے ای کے نائب صدر اور حاکم دبئی شیخ محمد بن راشد آل مکتوم نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر اتوار کو کابینہ کے اس فیصلے کا اعلان کیا ہے۔

امارات کی سرکاری خبررساں ایجنسی وام کے مطابق یو اے ای کی کابینہ نے آج ایک قانون کی منظوری دی ہے جس کے تحت 55 سال سے زاید عمر کے بعد ریٹائر ہونے والے تارکینِ وطن کو پانچ سال کے لیے خصوصی اقامتی ویزا جاری کیا جائے گا اور خصوصی حالات میں اس کی تجدید بھی کی جاسکے گی۔

اس قانون کا اطلاق 2019ء سے ہوگا ،اس میں طویل المیعاد ویزے کی اہلیت کے شرائط وضوابط بیان کیے گئے ہیں۔ان کے تحت اگر کسی تارکِ وطن نے پراپرٹی میں بیس لاکھ درہم مالیت کی سرمایہ کاری کی ہوگی، یا اس کے پاس دس لاکھ درہم کی مالی بچت ہو یا وہ ماہانہ کم سے کم بیس ہزار درہم کما رہا ہو تو اس کو یہ طویل المیعاد ویزا جار ی کیا جائے گا۔

شیخ محمد نے ٹویٹر پر مزید اطلاع دی ہے کہ حکومت نے صنعتوں کے لیے بجلی کی فیس میں بھی کٹوتی کا فیصلہ کیا ہے۔

واضح رہے کہ خلیج تعاون کونسل ( جی سی سی) کے بیشتر رکن ممالک تارکین ِوطن کو ویزے کی مدت ختم ہونے کے بعد اپنے ہاں مزید قیام کی اجازت نہیں دیتے ہیں۔

یک روزہ عدالتی نظام

یو اے ای کی کابینہ نے ’’یک روزہ عدالتی نظام‘‘ شروع کرنے کی بھی منظوری دی ہے۔اس کا مقصد کمیونٹی کو تیز رفتار اور موثر انداز میں انصاف مہیا کرنا ہے۔’’ایک دن کی عدالت‘‘ سے معمولی جرائم کے مقدمات کو تیز رفتاری سے نمٹانے میں مدد ملے گی۔

وام کے مطابق ’’یہ اقدام اس امر کی بھی توثیق کرتا ہے کہ یو اے ای اداروں اور قانون کی پاسدار ریاست ہے جس کے ہاں جدید میکانزم اور نظاموں پر مشتمل ایک ممتاز عدالتی نظام مروج ہے۔