.

حوثیوں کے سرغنہ کی "قاتل منظرنامے" کی تیاری، جانشینی کے لیے چچا پر اعتماد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عربی روزنامے "الشرق الاوسط" نے ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ حوثی ملیشیا کے سرغنہ عبدالملک الحوثی نے اپنی وفات یا ہلاکت کی صورت میں اپنے چچا عبدالکریم الحوثی کو جانشیں کے طور پر منتخب کر لیا ہے۔

اخبار نے صنعاء میں اپنے ذرائع کے حوالے سے لکھا ہے کہ عبدالملک نے صنعاء اور دوسرے صوبوں میں حوثی ملیشیا سے متعلق زیادہ تر انتظامی امور اپنے چچا کے سپرد کر دیے ہیں اور اپنے چچا زاد بھائی محمد علی الحوثی (سپریم انقلابی کونسل کا سربراہ) اور سگے بھائی عبدالخالق الحوثی کے لیے سادہ سے چند امور کو باقی رہنے دیا۔

ان ذرائع کے مطابق حوثیوں کے سرغنے نے چند ہفتے قبل اپنی مشاورتی کونسل کو طلب کیا تھا۔ اس کونسل کے ارکان کا کردار ایران میں مجلس تشخیص مصلحتِ نظام کے ارکان کے متوازی ہے۔عبدالملک نے ارکان کے سامنے اس بات کی اہمیت پر زور دیا کہ وہ ان کا ایک نائب چُن لیں جو حوثی ملیشیا کے اُمور کی نگرانی سے متعلق زیادہ تر ذمّے داریاں انجام دے اور ان کی صورت میں تحریک کی سربراہی سنبھال لے تا کہ اس معاملے پر ملیشیا کے مختلف دھڑوں میں تنازع پیدا نہ ہو۔

اخبار نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ عبدالملک الحوثی کی جانب سے اپنے چچا کو جانشیں مقرر کرنے کے اقدام کو انقلابی کمیٹی کے سربراہ محمد علی الحوثی کی مخالفت کا سامنا ہوا جو خود کو حوثیوں کے سربراہ کی جانشینی کا مستحق سمجھا بیٹھا تھا۔ علاوہ ازیں عبدالملک کے بھائی اور عسکری کمانڈر عبدالخالق الحوثی نے بھی اس نامزدگی کی مخالفت کی۔

واضح رہے کہ ان میں سے اکثر عناصر اور ان کا سرغنہ عرب اتحاد کو مطلوب حوثیوں کی فہرست میں شامل ہیں۔

ذرائع کے مطابق حوثیوں کے سربراہ نے آخر الذکر دونوں شخصیات کو مطمئن کرنے کے لیے بعض اختیارات سے نواز دیا۔ محمد علی الحوثی کو "انقلابی کمیٹی" سے متعلق فیصلے اور جماعت کے دائرہ کار سے باہر رہتے ہوئے کمانڈروں کے تقرر کی تجویز کا اختیار دیا گیا ہے۔ اسی طرح عبدالخالق الحوثی کو عسکری حوالے سے حوثی ملیشیا کے سپریم کمانڈر کے اختیارات سونپے گئے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ عبدالملک الحوثی کا چچا عبدالکریم الحوثی اس وقت ملیشیا کے زیادہ تر اندرونی امور کا حقیقی حاکم ہے۔ وہ صنعاء میں حوثیوں کے سرغنے کا سیاسی دفتر چلا رہا ہے۔ اس کے علاوہ عبدالکریم صنعاء اور باغیوں کے زیر قبضہ دیگر صوبوں میں ملیشیا کی صفوں سے نگرانوں کے تقرر کا اختیار بھی رکھتا ہے۔

ذرائع کے مطابق اپنے بھتیجے کی جانشینی کی مسند پر براجمان ہونے کے بعد سے عبدالکریم الحوثی نے اپنی نقل و حرکت انتہائی محدود کر دی ہے اور اس کے گرد سکیورٹی کا کڑا پہرا رہتا ہے۔