.

سوئٹزر لینڈ : پروفیسر طارق رمضان کے خلاف ناجائز جنسی تعلق کے الزام کی تحقیقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوئٹزر لینڈ میں پراسیکیوٹرز نے جنیوا میں مصری نژاد سوئس پروفیسر طارق رمضان کے خلاف جنسی اخلاق باختگی اور ایک عورت سے ناجائز جنسی تعلق کے الزام کی تحقیقات شروع کردی ہے۔

سوئس اخبار ٹرائبیون ڈی جنیوا نے وزارت انصاف کے ترجمان ہینری ڈیلا کاسا کے حوالے سے اتوار کو اطلاع دی ہے کہ حکام نے طارق رمضان کے خلاف جنیوا میں 2008ء میں ایک عورت کی عصمت ریزی کے الزام کی تحقیقات شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

متاثرہ عورت نے اس سال اپریل میں ان کے خلاف درخواست دائر کی تھی۔پروفیسر طارق رمضان پر سنگین الزام عاید کرنے والی اس عورت کے وکیل رومین جورڈن نے اژانس فرانس پریس ( اے ایف پی) کو بتایا ہے کہ پراسیکیوٹرز اور جنیوا پولیس تیزی سے اس کیس پر بہتر کام کررہے ہیں۔

انھوں نے دینیات کے پروفیسر کے خلاف عصمت ریزی کے الزام کی تحقیقات کے آغاز کو ایک اہم پیش رفت قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس سے ہماری موکلہ کے الزامات کی سنگینی بھی ظاہر ہوتی ہے اور بظاہر سوئس حکام کو یقین ہے کہ اس کیس کی مزید تحقیقات کی ضرورت ہے۔

طارق رمضان اس سال فروری سے فرانس میں دو اور عورتوں سے ناجائز جنسی تعلقات کے الزام میں پیرس کے نواح میں ایک جیل میں بند ہیں۔انھوں نے اس نئے الزام کے حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔مسٹر جورڈن کا کہنا ہے کہ ان کے خلاف اس فوجداری کیس کی تحقیقات کے آغاز کے بعد اب سوئس پراسیکیوٹرز فرانس جائیں گے اور ان سے وہاں اس نئے الزام کی تحقیقات کریں گے۔

پروفیسر طارق رمضان کو فرانس کی ایک عدالت کے حکم پر فروری میں دو مسلم عورتوں کی عصمت ریزی کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا ۔اس دوران میں ایک تیسری عورت نے بھی ان پر عصمت ریزی کے الزامات عاید کیے تھے لیکن وہ ان تمام الزامات کی تردید کرتے چلے آرہے ہیں۔

مصری نژاد اسلامی اسکالر طارق رمضان کے خلاف ایک سیکولر لبرل خاتون کارکن ہند ہ عیاری نے اکتوبر 2017ء میں سب سے پہلے ایک درخواست دائر کی تھی اور ان پر جنسی حملے ، تشدد ،ہراسیت اور عصمت ریزی کے الزامات عاید کیے تھے۔

انھوں نے اپنے خلاف فرانسیسی مصنفہ ہندہ عیاری کے عاید کردہ ان سنگین الزامات کی تردید کی تھی اور انھیں من گھڑت قرار دیا تھا۔ انھوں نے اس عورت کے خلاف ہتک ِ عزت کا مقدمہ چلانے کی بھی دھمکی دی تھی۔ان کے خلاف ایک اور عورت مونیا آر نے بھی ناجائز جنسی تعلق کے سنگین الزامات عاید کیے تھےاور یہ کہا تھا کہ طارق رمضان کئی ماہ تک اس کی عزت لوٹتے رہے تھے۔ان کے خلاف مقدمہ دائر کرنے والی پہلی دونوں عورتوں نے صرف ایک ایک مرتبہ عصمت ریزی کا الزام عاید کیا تھا۔

فرانسیسی میڈیا کے مطابق مونیا نے زارا کا تیارکردہ سیاہ رنگ کا لباس تفتیش کاروں کے حوالے کیا تھا۔اس پر مبینہ طور پر طارق رمضان کے ڈی این اے کے آثار موجود تھے۔ مونیا نے فروری 2013ء سے جون 2014ء تک پیرس ، روئیسی ، للی ، لندن اور برسلز کے ہوٹلوں میں طارق رمضان پر نو مرتبہ جنسی اختلاط کے الزامات عاید کیے تھے۔تاہم فرانس کی ایک عدالت کے جج نے تحقیقات کے بعد اس عورت کے الزامات کو مسترد کردیا تھا۔