.

تہران کی اراضی پر ایرانی پاسداران انقلاب کے قبضے کا دستاویزی انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی اپوزیشن سے تعلق رکھنے والی ویب سائٹ "ایران وائر" نے دارالحکومت تہران کی بلدیہ کی 4.78 لاکھ مربع گز اراضی اور جائیداد پر ایرانی پاسداران انقلاب کے غیر قانونی قبضے کے طریقہ کار کا انکشاف کیا ہے۔ اس سلسلے میں مذکورہ ویب سائٹ نے دو دستاویزات پیش کی ہیں۔

دستاویزات کے مطابق پاسداران نے جس اراضی کو اپنے عسکری اڈّے میں تبدیل کیا وہ تہران کے مغربی حصّے میں ثقافتی، تعلیمی اور کھیلوں کے کمپاؤنڈ کے لیے مختص تھی۔ تہران کے سابق میئر محمد علی نجفی نے 21 نومبر 2017ء کو ایرانی پاسداران انقلاب کے سربراہ محمد علی جعفری کو بھیجے گئے ایک خط میں اس اراضی پر قبضے کے حوالے سے احتجاج بھی کیا تھا۔

خط کے مطابق 20 اکتوبر 2017ء جمعے کے روز صبح کے وقت متعدد افراد نے جن کا دعوی تھا کہ اُن کا تعلق پاسداران انقلاب سے ہے، اس ٹھکانے پر بزور طاقت قبضہ کر لیا اور غیر متوقع طور پر بلدیہ کے سکیورٹی گارڈز کو وہاں سے نکال دیا۔

خط میں تہران کے میئر نے کہا کہ انہوں نے قومی مفاد اور پاسداران کی ساکھ بچانے کی خاطر متعلقہ حکام کو اس خبر سے آگاہ نہیں ہونے دیا۔ نجفی کے مطابق یہ خبر اِفشا ہو گئی اور انہیں تہارن کی بلدیاتی کونسل کے ارکان کی جانب سے ایک بند کمرے کے اجلاس میں پوچھ گچھ کا نشانہ بننا پڑا۔ نجفی نے خط میں جعفری سے اس کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا تاہم جعفری نے خط کو نظر انداز کر دیا اور پاسداران نے زمین پر اپنے قبضے کا سلسلہ جاری رکھا۔

ایران وائر ویب سائٹ کے مطابق تہران اور کرج کے بیچ ہائی وے پر واقع یہ مرکز 2012ء میں آیت اللہ علی کانی کے گھرانے نے تہران کی بلکہ کو عوامی استعمال کے واسطے عطیے کے طور پر دیا تھا۔

تہران کی بلدیہ نے 2012ء سے 2016ء کے درمیان اس مرکز کی تعمیر نو اور اسے عوام کے لیے ثقافی اور تعلیمی سرگرمیوں کے واسطے تیار کرنے کی مد میں تقریبا 48 لاکھ ڈالر کی رقم خرچ کی۔ تاہم اب یہ ایرانی پاسداران انقلاب کی عسکری تنصیب میں تبدیل ہو چکا ہے۔

ایران وائر کو حاصل ہونے والے ایک دوسرے خط میں تہران 22 زون کی بلدیہ کے سربراہ علی نوزار پور نے محمد علی نجفی کو آگاہ کیا کہ بلدیہ کے ورکرز کو علاقے میں واقع عسکری کیمپ میں قائم بجلی اور پانی کے اسٹیشنوں تک جانے سے روک دیا گیا اور پاسداران اس معاملے کے براہ راست ذمّے دار ہیں۔

نجفی جولائی 2017ء سے تہران کے میئر تھے تاہم وہ 13 مارچ 2018ء کو اپنے منصب سے مستعفی ہو گئے۔ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ انہوں نے سیاسی دباؤ کے تحت استعفا دیا تاہم نجفی نے "صحت کے مسائل" کو اپنی سبک دوشی کی وجہ قرار دیا۔

ایران وائر ویب سائٹ نے باخبر ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ تہران کی بلدیہ کی املاک پر غیر قانونی شکل میں قبضے کے حوالے سے نجفی کا ایرانی پاسداران انقلاب کے ساتھ جھگڑا بھی ہوا تھا۔

ویب سائٹ کے مطابق نجفی کے مستعفی ہونے میں ایک اور اہم عامل کار فرما ہے۔ وہ یہ ہے کہ نجفی "یاس ہولڈنگ" کمپنی سمیت پاسداران انقلاب سے مربوط بدعنوانی کے معاملات کی پیروی کی کوششیں کر رہے تھے۔

سابق صدر محمد خاتمی کے دور میں حکومتی ترجمان عبداللہ رمضان زادہ کی ایک ٹوئیٹ کے مطابق یہ معااملہ مذکورہ کمپنی سے روابط رکھنے والے کئی معروف فوجی جنرلوں کی جانب سے 3 ارب ڈالر سے زیادہ کے غبن سے متعلق ہے۔

علاوہ ازیں پاسداران انقلاب کے "خاتم الانبیاء" ہیڈ کوارٹر اور اس کے زیر انتظام کمپنیوں نے 2014ء کے موسم گرما کے بعد سے تہران کی بلدیہ کے 4.8 ارب ڈالر مالیت کے ترقیاتی منصوبوں کے ٹھیکے اُچک لیے۔

البتہ مئی 2018ء میں تہران کے میئر کا منصب سنبھالنے والے محمد علی افشانی نے تہران کی بلدیہ اور ایرانی پاسداران انقلاب کے درمیان مسائل کے حوالے سے چُپ سادھ رکھی ہے۔ ایران وائر ویب سائٹ کے مطابق ایسا لگتا ہے کہ انہوں نے یہ اراضی جنرلوں کو تحفے کے طور پیش کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔