.

معروف قطری قبیلے کی حکومت کے ناروا امتیازی سلوک کے خلاف اقوام متحدہ میں عرضداشت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

قطر کے بڑے قبائل میں سے ایک آل غفران کے وفد نے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کو ایک عرض داشت پیش کی ہے اور اس میں اپنے قبیلے کے خلاف قطری حکام کے ناروا امتیازی سلوک اور چیرہ دستیوں کو بند کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔

وفد کی جانب سے ایک کم سن لڑکے محمد آل غفرانی نے جنیوا میں یہ درخواست پیش کی ہے۔اس لڑکے اور اس کے خاندان کی شہریت قطری حکومت نے منسوخ کردی ہے،ان کی جائیدادیں ضبط کردی ہیں ۔اس کے ارکان کو ملک بدر کردیا ہے اور وہ اب در بدر ہوچکے ہیں۔

آل غفران کے نمایندوں نے ستمبر 2017ء میں بھی انسانی حقوق کے ہائی کمشنر کو ایک درخواست دی تھی اور اس میں اقوام متحدہ کے دفتر سے قبائل کے ارکا ن کو قطری رجیم کی چیرہ دستیوں سے تحفظ مہیا کرنے اور ان کے جائز قانونی حقوق کی بحالی کا مطالبہ کیا تھا جن سے انھیں حکام نے معاندانہ کارروائی کرتے ہوئے محروم کردیا تھا۔

اس وفد کا کہنا ہے کہ بنو مرہ کی آل غفران شاخ کو 1996ء سے 2004ء تک بھی قطری حکومت کے امتیازی سلوک کا سامنا رہا تھا۔انھیں جبری طور پر ان کے آبائی علاقوں ، جائیدادوں اور مکانوں سے بے دخل کردیا گیا تھا اور انھیں واپسی کا حق بھی نہیں دیا گیا تھا۔قبیلے کے بہت سے ارکان کو قطری انٹیلی جنس کے زیر انتظام جیل میں ڈال دیا گیا اور انھیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

قطری حکام نے گذشتہ سال چار خلیجی عرب ممالک کے ساتھ تنازع کے آغاز کے بعد بھی اپنے مخالف قبائل کے ارکان کی شہریت کی منسوخی اور ان کی جائیدادوں کی ضبطی کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔قطری رجیم نے گذشتہ ایک سال کے دوران میں آل غفران کے چھے ہزار ارکان کی شہریت منسوخ کرکے انھیں تمام شہری حقوق سے محروم کردیا ہے۔

قطری وفد نے اپنی عرض داشت میں لکھا ہے کہ ’’ ہم آپ کو یہ یقین دلانا چاہتے ہیں کہ امیرِ قطر ، وزیراعظم ،اٹارنی جنرل ،قومی کمیٹی برائے انسانی حقوق کے صدر ،سینیر سکیورٹی حکام اور اعلیٰ شخصیات آل غفران قبیلے کے ارکان سے امتیازی سلوک سے آگاہ ہیں۔یہ سب عہدے دار بھی دراصل اس قبیلے کے خلاف تشدد آمیز ناروا سلوک میں برابر کے شریک ہیں۔قطری حکام اپنے اس جرم کو عالمی انصاف اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں سے چھپانے کے لیے بھی کوشاں ہیں‘‘۔

وفد نے قطری حکام کے حکومت مخالف قبائل سے سفاکانہ ناروا سلوک کے دستاویزی ثبوت بھی پیش کیے ہیں اور کہا ہے کہ انھیں تعلیم وصحت کی سہولتوں سے محروم اور غیر منصفانہ حراست میں رکھا جارہا ہے۔وہ ذمے دار قطری حکام کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔آل غفران کے ساتھ مصر کی انسانی حقوق کی تنظیم ،عرب فیڈریشن برائے انسانی حقوق او ر دوسرے تنظیموں نے یک جہتی کا اظہار کیا ہے۔