.

واشنگٹن کی جانب سے فلسطینی سفیر کی بے دخلی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

واشنگٹن میں تنظیم آزادی فلسطین (پی ایل او) کے مشن کے دفتر کے سربراہ سفیر حسام زملط نے اتوار کے روز ایک اعلان میں بتایا کہ امریکا نے اُن کے اہل خانہ کا ویزا منسوخ کر دیا ہے۔ یہ امریکی انتظامیہ اور فلسطینی قیادت کے بیچ تعلقات کی ابتری کے سلسلے میں تازہ ترین پیش رفت ہے۔

زملط کے مطابق اُن کے اہل خانہ کا ویزا 2020ء میں ختم ہونا تھا تاہم آئندہ ماہ سفارتی مشن کے دفتر کی بندش کے اعلان کے بعد اُن کے اہل خانہ امریکا سے کوچ کر گئے ہیں۔ زملط نے بتایا کہ امریکی وزارت خارجہ کا موقف ہے کہ اُن کی اہلیہ اور بچوں کے ویزے پی ایل او کے سفارتی مشن کے دفتر کی بندش کے بعد قابل عمل نہیں رہیں گے۔ زملط کا کہنا ہے کہ "یہ بات سفارتی روایات کے منافی ہے۔ بچوں ، بیگمات اور اہل خانہ کا سفارتی اختلافات سے کوئی تعلق نہیں ہوتا"۔

ادھر پی ایل او کی مجلس عاملہ کی خاتون رکن حنان عشراوی نے امریکی انتظامیہ کے اقدامات پر کڑی تنقید کرتے ہوئے انہیں "انتقامی" قرار دیا۔ اپنے بیان میں حنان کا مزید کہنا تھا کہ امریکا نے فلسطینیوں پر دباؤ ڈالنے اور بلیک میل کرنے کے لیے نئی حدوں کو چُھو لیا ہے۔

یاد رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے اور سفارت خانے کو وہاں منتقل کرنے کے بعد فلسطینی قیادت نے امن کوششوں کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا۔ اس اعلان نے وہائٹ ہاؤس کے اندر غصّے کی لہر دوڑا دی تھی۔

دوسری جانب اسرائیل میں امریکی سفارت خانے کے ایک ذمّے دار نے اتوار کے روز تصدیق کی ہے کہ امریکا نے فلسطینیوں کے لیے اضافی امداد روک دی ہے۔ یہ رقم اسرائیلیوں کے ساتھ تنازع کے حل تک پہنچنے کے عمل کو سپورٹ کرنے کے پروگرواموں کے لیے مختص تھی۔

واضح رہے کہ فلسطینیوں ، یہودیوں اور عرب اسرائیلیوں کے مفاد سے متعلق پروگراموں کی مد میں اب تک امریکا کی جانب سے ایک کروڑ ڈالر کی کٹوتی کا اعلان ہو چکا ہے۔

امریکی ذمّے دار کے مطابق مغربی کنارے اور غزہ پٹی میں فلسطینیوں سے متعلق امداد کا حصّہ اسرائیل میں مختلف پروگراموں کو "بہتر بنانے" میں استعمال کیا جائے گا۔