.

ٹرمپ کا مشرق وسطیٰ امن منصوبہ اسرائیل کے لیے پریشانی کا باعث!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان تنازع کے حل کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک نئے امن منصوبے کی خبریں کافی عرصےسے ذرائع ابلاغ میں آ رہی ہیں۔ واشنگٹن میں موجود العربیہ ڈاٹ نیٹ کے نامہ نگار نے امریکی امن منصوبے کے حوالے سے اہم تفصیلات حاصل کی ہیں۔ ان معلومات کے مطابق امریکی صدر کے مشیر اور ان کے داماد جارڈ کوشنر اور مشرق وسطیٰ کے لیے امریکی ایلچی جیسن گرین بیلٹ عن قریب خطے کا ایک نیا دورہ کریں گے مگر امریکی امن اسکیم کا اعلان نومبر 2018ء تک یعنی امریکا میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات کے بعد تک موخر کیا گیا ہے۔

امریکی امن اسکیم کے اعلان میں تاخیرایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب دوسری جانب حالیہ ہفتوں کے دوران امریکی انتظامیہ اور فلسطینیوں کے درمیان بھی کشیدگی پائی جا رہی ہے۔ امریکا نے مرحلہ وارفلسطینیوں کے خلاف مختلف اقدامات کیے ہیں۔ ان میں آخری اور تازہ ترین اقدام واشنگٹن میں فلسطین لبریشن موومنٹ یا تنظیم آزادی فلسطین کے دفاتر بندکرنا اور فلسطینی پناہ گزینوں کو دی جانے والی مالی امداد بند کرنا ہے۔

ایک امریکی عہدیدار نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ سے بات کرتے ہوئے کاہ کہ فلسطینی پناہ گزینوں کا ’حق واپسی‘ تنازع کے آخری اور حتمی حل کا حصہ ہوگا مگر ہم تمام پناہ گزینوں کے مسائل کے منصفانہ حل کے لیے متبادل تجاویز پر بھی غور رکرہےہیں‘۔

امریکی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ یہ بات اہمیت کی حامل ہے کہ نہ صرف فلسطینیوں بلکہ پڑوسی ملکوں نے بھی فلسطینی پناہ گزینوں کی امداد بند کرنے کو ’حق واپسی‘ کو نقصان پہنچانے کے مترادف قرار دیا ہے۔31اگست 2018ء کو امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان نے کہا کہ ’اونروا‘ کو کئی سال سے دی جانے والی امداد کو بلا توقف دیا جاتا رہا اور اس سے مستفید ہونے والے گروپوں میں بھی اضافہ ہوا، مگر اب یہ مثال مزید آگے نہیں چلے گی۔ اونروا امداد حاصل کرنے کے باوجود کئی سال سے مالی بحران کا شکار ہے۔

فلسطینیوں کا خیال ہے کہ اسرائیل اور امریکا کی اسرائیل نواز حکومت مل کر فلسطینی پناہ گزینوں کےحق واپسی کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔

دوسری جانب فلسطینی پناہ گزینوں کی امداد روکے جانے کے حوالے سے امریکی مختلف دعوے اور جواز پیش کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکی صدر نے جنوری 2018ء کو بیرون ملک دی جانے والی امداد پر نظر ثانی کا حکم دیا تھا۔ اس امداد میں فلسطینی پناہ گزینوں کو ملنے والی امداد بھی شامل تھی۔ سابق امریکی وزیرخارجہ ریکس ٹیلرسن نے ستمبر میں رواں مالی سال کے اختتام پر 60 ملین پاؤنڈ کی رقم جاری کرنے کی اجازت دی تھی۔مگر امریکی حکام کے درمیان فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات کے تعطل کے باعث یہ امداد جاری نہیں کی جاسکی۔ اس امداد کے جاری کرنے یا روکے جانے کے حوالے سےامریکی انٹیلی جنس حکام، محکمہ خارجہ، دفاع اور امریکی انتظامیہ کے درمیان کافی لے دے بھی ہوتی رہی ہے۔

مذاکراتی کشیدگی

امریکی انتظامیہ کے چال چلن پر نظر رکھنے والے مبصرین کا کہنا ہے کہ فلسطینیوں کی امداد جاری رکھنے یا نہ رکھنے کے حوالے سے امریکی انتظامیہ شش وپنج کا شکار ہے۔ وزارت خارجہ،انٹیلی جنس ادارے اور وزارت دفاع موجودہ حالت کو برقرار رکھنے کے حامی ہیں اور نہیں چاہتے کہ فلسطینیوں کے ساتھ تعلقات میں کوئی نیا زلزلہ برپا کیا جائے۔ انہوں نے فلسطینی اتھارٹی اور فلسطینی پناہ گزینوں کی بہبود کی ذمہ دار اقوام متحدہ کی تنظی’اونروا‘ کی امداد جاری رکھنے کا مشورہ دیا ہے۔

تاہم دوسری جانب امریکا میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مقربین اور ان کے مشیروں کا ایک گروپ ایسا ہے جو نظریاتی طورپر اسرائیل کے انتہائی قریب ہے۔ انہیں فلسطینیوں کے مطالبات یا مسائل کی ذرا برابر پرواہ نہیں۔ وہ فلسطینیوں کی امداد کی بندش پر خاموش ہیں چاہے اس کے نتیجے میں فلسطینیوں کے لیے سنگین مشکلات ہی کیوں نہ کھڑی ہوجائیں۔ وہ فلسطینیوں کی امداد بند کرنے کو اسرائیل کے مفاد میں سمجھتے ہیں۔

امریکی صدر کے مقربین کے گروپ میں ان کے داماد جارڈ کوشنر، مذاکرات کار جیسن گرین بیلٹ اور اسرائیل میں امریکی سفیر ڈیوڈ فریڈمن پیش پیش ہیں۔ یہ لوگ نہ صرف فلسطینیوں کی امداد بند کرنے کے حامی ہیں بلکہ وہ فلسطینیوں کے خلاف ہرممکن تشدد کے بھی حامی ہیں۔ وہ فلسطینیوں کے لیے بعض دروازے مکمل طورپر بند کرنا چاہتے ہیں۔

فلسطینیوں کے لیے امکانات کی بحالی

امریکی حکام نے’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے کیے گئے بعض اقدامات اگرچہ بہ ظاہر اسرائیل کے مفاد میں ہیں مگر وہ فلسطینیوں کے بھی خلاف نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دیتے وقت 6 دسمبر2017ء کو صدر ٹرمپ نے حتمی حل کے بارے میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا۔ القدس پر اسرائیلی بالا دستی اور متنازع حدود کے تعین کے بارے میں ابھی فیصلہ کرنا باقی ہے۔

امریکی حکام کا مزید کہنا ہے کہ امریکی حکومت ’اونروا‘ کی امداد بندکرنے کے فیصلے پر نظرثانی کے لیے تیار ہے بہ شرطیکہ کے ’اونروا‘ اپنے طریقہ کار میں تبدیلی کا اشارہ دے۔ اسی طرح اگر امریکی انتظامیہ یہ محسوس کرے کہ فلسطینیوں نے اسرائیل کے ساتھ واضح انداز میں مذاکرات کا راستہ اختیار کرلیا ہے تو امریکا میں ’پی ایل او‘کے مراکز کھولے جا سکتے ہیں۔

اسرائیلیوں کے خدشات

امریکی حکومت کے فلسطینیوں کے خلاف اقدامات پر اسرائیلی حکومت کے حامی اور بنجمن نیتن یاھو خوش ہیں۔ اسرائیلیوں کو امریکی صدر کی ٹیم اور فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس کے درمیان جاری تناؤ پر خوشی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ اگر امریکا اور فلسطینیوں میں کشیدگی برقرار رہتی ہے تو ٹرمپ اسے ختم کرنے کے لیے اپنے امن منصوبے کا اعلان کرسکتے ہیں۔ ایسے میں فلسطینی اتھارٹی کو کسی سیاق میں شامل نہیں کیا جائے گا اور اس کی ذمہ داری بھی فلسطینی اتھارٹی پرعاید کی جائے گی، کیونکہ فلسطینی اتھارٹی اب تک اسرائیل کے ساتھ مذاکرات پر آمادہ نہیں ہوئی ہے۔

واشنگٹن میں موجود تجزیہ نگار غیث العمری کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ اسرائیل سے مذاکرات کے لیے فلسطینیوں پر جتنا دباؤ ڈال رہی ہے اس کا عشر عشیر بھی اسرائیل پر نہیں ڈالا جا رہا۔ ایسے لگتا ہے کہ امریکی انتظامیہ کا تیار کردہ امن پلان ’صدی کی ڈیل‘ اسرائیل کا تیار کردہ ہے۔ اس میں اسرائیل سے پیچھے ہٹنے کی کوئی تجویز نہیں مگر اس کے باوجود نیتن یاھو اور اس کے حامی اس منصوبے کے اعلان کے حق میں نہیں۔