.

جنیوا: معروف قطری قبیلے کا تمیم رجیم کے انسانیت مخالف جرائم کی مذمت میں مظاہرہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

قطر کے بڑے قبائل میں سے ایک آل غفران کے وفد نے جنیوا میں اقوام متحدہ کے صدر دفاتر کے باہر تمیم رجیم کی چیرہ دستیوں کی مذمت کے لیے احتجاجی مظاہرہ کیا ہے اور اس قبیلے کے ارکان کی شہریت کی تنسیخ ، انھیں دربدر کرنے اور تشدد کا نشانہ بنا نے پر تمیم رجیم کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

قبیلے نے عالمی برادری سے قطری امیر شیخ تمیم کی قیادت میں رجیم کے خلاف فیصلہ کن موقف اختیار کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔اس قبیلے کا کہناہے کہ اس نظام نے اس کے ارکان کو ملک سے بے دخل کرکے متعدد بین الاقوامی کنونشنوں اور معاہدوں کی خلاف ورزی کی ہے۔

مظاہرے میں شریک قبیلے کے ایک رکن حمد خالد آل مرہ نے کہا کہ ’’ قطری رجیم کے ساتھ ہمارا معاملہ خالصتاً انسانی ہے ، سیاسی نہیں ۔یہی وجہ ہے کہ ہم یہاں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کو اپنے مطالبات پیش کرنے کے لیے آئے ہیں۔ہمارے مطالبات بڑے واضح ہیں:قطر ی رجیم نے ہمارے اور دوسرے ہم وطنوں کے خلاف جن جرائم کا ارتکاب کیا ہے، اس پر اس کا احتساب کیا جائے اور ہمارے حقوق بحال کیے جائیں‘‘۔

آل غفران کا وفد انسانی حقوق کونسل کے انتالیسویں اجلاس کے موقع پر احتجاج کے لیے سوئس شہر پہنچا ہے۔ وفد نے سوموار کو اقوام متحدہ ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کو ایک عرض داشت بھی پیش کی تھی اور اس میں اپنے قبیلے کے خلاف قطری حکام کے ناروا امتیازی سلوک اور چیرہ دستیوں کو بند کرانے کا مطالبہ کیا تھا ۔وفد کی جانب سے ایک کم سن لڑکے محمد آل غفرانی نے جنیوا میں یہ درخواست پیش کی تھی۔قطری حکومت نے اس لڑکے اور اس کے خاندان کی شہریت منسوخ کردی ہے،ان کی جائیدادیں ضبط کرلی ہیں ۔اس کے ارکان کو بے ریاست قرار دے کر در بدر کردیا ہے۔

قبیلے کے وفد نے قبل ازیں 21 ستمبر 2017ء کو بھی اقوام متحدہ ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے دفتر کو ایک عرض داشت پیش کی تھی اور اس سے قطری حکام کے اپنے خلاف مسلسل ناروا امتیازی سلوک اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو بند کرانے اور اپنے حقوق کی بحالی کا مطالبہ کیا تھا۔

قبیلےکے نمایندوں کا کہنا تھا کہ ’’ سابقہ عرض داشت میں ہم نے بنی مرہ قبیلے کی شاخ آل غفران کے خلاف قطری رجیم کی 1996ء سے 2004ء تک انتقامی کارروائیوں ، بدترین نسلی امتیاز ، جبری بے دخلی ، انھیں آبائی سرزمین پر واپسی کے حق سے انکار ، انھیں قطری انٹیلی جنس کی جیلوں میں ڈالنے اور تشدد آمیز کارروائیوں کا ذکر کیا تھا جس کے نتیجے میں بہت سے ارکان کی موت واقع ہوچکی ہے یا پھر وہ نفسیاتی عوارض سے دوچار ہوچکے ہیں‘‘۔

آل غفران کے ان جلا وطن ارکان کے اپنے بیوی بچے اور خاندانوں کے دیگر افراد قطر ہی میں انتہائی نامساعد حالات میں رہ رہے ہیں۔انھیں شہریت سے محروم کرکے بے ریاست قرار دے دیا گیا ہے،انھیں تعلیم اور صحت سمیت کوئی بنیادی سرکاری سہولت حاصل نہیں اور وہ اپنے ہی وطن میں مہاجرت اور خانہ بدوشی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

آل غفران کا بڑا قصور یہ ہے کہ انھوں نے قطری رجیم کی خطے میں عدم استحکام کی پالیسیوں کی مخالفت کی تھی اور وہ اسی کو ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات کے بگاڑ کا ذمے دار قرار دیتے ہیں۔ قطری حکام نے اس کی پاداش میں آل مرہ قبیلے کے ایک سردار شیخ طالب بن لاہوم بن شریم اور ان کے خاندان کے 54 افراد کی شہریت منسوخ کردی تھی اور انھیں بے ریاست قرار دے دیا تھا۔

قطری حکومت کے اس اقدام کو انسانی حقوق کی مختلف تنظیموں نے انتقامی کارروائی قرار دیا تھا مگر قطری رجیم نے اسی پر اکتفا نہیں کیا تھا بلکہ اس کے ساتھ شہریت سے محرو م کیے گئے آل مرہ کے ارکان کی جائیدادیں بھی ضبط کرلی تھیں۔اس کے بعد آل غفران قبیلے نے بتایا تھا کہ اس کے چھے ہزار ارکان کو قطری رجیم نے آبائی علاقوں سے جبری بے دخل کردیا ہے اور انھیں قطری شہریت اور ان کے قومی حقوق سے بھی محروم کردیا ہے۔