.

شمالی کوریا کے ساتھ جلد عسکری سمجھوتا ہو گا: جنوبی کوریا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سیول میں ایک سرکاری عہدے دار نے بتایا ہے کہ شمالی اور جنوبی کوریا عنقریب ایک فوجی معاہدے تک پہنچنے کا اعلان کریں گے۔

اس سے قبل واشنگٹن یہ کہہ چکا ہے کہ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو 27 ستمبر کو شمالی کوریا کے حوالے سے سلامتی کونسل کے ایک اجلاس کی صدارت کریں گے۔ اجلاس میں وہ عالمی برادری سے مطالبہ کریں گے کہ پیونگ یانگ پر دباؤ جاری رکھا جائے تا کہ شمالی کوریا کو اُس کے جوہری ہتھیاروں سے دست برداری پر مجبور کیا جا سکے۔

امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان ہیتھر نوورٹ کے مطابق وزراء خارجہ کی سطح پر ہونے والا یہ اجلاس اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے عمومی اجلاس کے ضمن میں منعقد ہو گا۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ "اجلاس میں شمالی کوریا کو جوہری ہتھیاروں سے حتمی اور مکمل طور پر پاک کرنے کے لیے ہماری جانب سے کی جانے والی کوششوں کا جائزہ لیا جائے گا"۔

اقوام متحدہ میں امریکا کی مستقل سفیر نکی ہیلے روس پر یہ الزام عائد کر چکی ہیں کہ اُس نے شمالی کوریا پر عائد پابندیاں لاگو کرنے میں "دھوکے" سے کام لیا۔ انہوں نے باور کرایا کہ ماسکو پابندیوں کے نظام میں رکاوٹ ڈال رہا ہے۔ امریکی خاتون سفارت کار نے خاص طور پر روس کے اُس دباؤ کی مذمت کی جو پابندیوں پر عمل درامد کے حوالے سے تحقیقات کرنے والے اقوام متحدہ کے ماہرین پر ڈالا۔ ماسکو اس بات کا خواہاں تھا کہ یہ ماہرین اپنی رپورٹوں سے روسی اداروں کی جانب سے مرتکب خلاف ورزیوں کے متعلق حصّوں کو حذف کر دیں۔

اقوام متحدہ میں روسی سفیر ویسلے نیبنزیا نے نکی ہیلے کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ "ایسے وقت میں جب کہ ہم امن معاہدے کے قریب آ رہے ہیں تو آپ لوگ ہر مثبت امر کو برباد کرنا چاہتے ہیں"۔ نیبنزیا نے اس قول کو جھوٹ اور بے بنیاد قرار دیا کہ ماسکو پابندیوں کی خلاف ورزیوں میں روسی اداروں کی مدد کر رہا ہے۔