.

یمن: گذشتہ 10 روز میں سرکاری فوج سے شدید لڑائی میں 1300 حوثی باغی ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے دو صوبوں الحدیدہ اور صعدہ میں گذشتہ دس روز سے سرکاری فوج اور حوثی شیعہ باغیوں کے درمیان شدید لڑائی جاری ہے جس کے نتیجے میں کم سے کم تیرہ سو حوثی باغی ہلاک ہوگئے ہیں۔ان میں ایک بڑی تعداد عرب اتحاد کے فضائی حملوں میں ماری گئی ہے۔

یمنی فوج صوبہ صعدہ میں مران کے پہاڑی علاقے کی جانب پیش قدمی کررہی ہے اور وہ حوثی ملیشیا کے ساتھ شدید لڑائی کے بعد الجمیمہ میں واقع حوثی تحریک کے بانی حسین الحوثی کی قبر کے نزدیک پہنچ گئی ہے۔

یمنی فوج کے تیسرے بریگیڈ کے کمانڈر بریگیڈئیر عبدالکریم السدعی نے منگل کے روز بتایا ہے کہ ان کے دستے حوثی ملیشیا کے مرکز اور مضبوط گڑھ جرف سلمان کی جانب پیش قدمی کررہے ہیں ۔ یہ علاقہ حوثیوں اور ان کے لیڈر عبدالملک الحوثی کے لیے اہم خیال کیا جاتا ہے اور وہ اسی علاقے میں مقیم ہے۔

یمنی فوج کے مطابق صعدہ کے ضلع حیدان میں واقع جبال مران میں گذشتہ دس روز سے جاری اس شدید لڑائی میں کم سے کم تیرہ سو حوثی جنگجو ہلاک ہوگئے ہیں۔

بریگیڈئیر السدعی نے بتایا کہ ’’ مران کے محاذ پر حوثی ملیشیا کی بڑھتی ہوئی ہلاکتوں کے پیش نظر گذشتہ چند روز میں نئے قبرستان بنائے گئے ہیں تاکہ ان مہلوکین کی وہاں تدفین کی جاسکے۔اس کے علاوہ اب حوثی ملیشیا کو اپنے مضبوط گڑھ کے ممکنہ سقوط پر بھی تشویش لاحق ہونا شروع ہوگئی ہے۔سعودی عرب کی قیادت میں عرب اتحاد اس جنگ میں اہم اور براہ راست کردار ادا کررہا ہے‘‘۔

واضح رہے کہ جرف سلمان صوبہ صعدہ کے جنوب مغرب میں جبال مران کے پہاڑی سلسلے میں واقع ایک گاؤں ہے۔یہ حوثی لیڈر عبدالملک الحوثی کا ہیڈ کوارٹر ہے اور یہیں حوثی تحریک کا بانی حسین الحوثی مقیم رہا تھا۔اس نے سابق صدر علی عبداللہ صالح کی حکومت کے خلاف مسلح بغاوت برپا کی تھی اور وہ یمن کی مسلح افواج کی کارروائی میں 10 ستمبر 2004ء کو ہلاک ہوگیا تھا۔