.

’یو این‘ مندوب کا یمن میں سیاسی بات چیت میں اہم پیش رفت کا دعویٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے لیے اقوام متحدہ کے امن مندوب مارٹن گریفیتھ نے کہا ہے کہ یمن کی آئینی حکومت اور ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے درمیان مذاکرات کی بحالی کی کوششوں میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔

’العربیہ‘ کے مطابق مائیکرو بلاگنگ ویب سائیٹ ’ٹوئٹر‘ پر پوسٹ کردہ ایک بیان میں گریفیتھ کا کہنا تھا کہ ان کی صنعاء میں حوثیوں اور جنرل پیپلز کانگریس کے رہ نماؤں سے تعمیری اور مثبت بات چیت ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یمن میں متحارب فریقین کے درمیان بات چیت کی بحالی کی قوی امید پیدا ہوئی ہے۔حوثیوں کی طرف سے قیدیوں کے تبادلے، اقتصادی صورت حال کی بہتری اور صنعاء ہوائی اڈے کو کھولنے کے مطالبات سامنے آئے ہیں۔

اقوام متحدہ کے امن مندوب حوثیوں کی تجاویز لے کرآج یمنی حکومت کے ساتھ سعودی عرب کے دارالحکومت الریاض میں مذاکرات کریں گے۔

خیال رہے کہ یو این مندوب کی طرف سے باغیوں کی جانب سے مذاکرات کے لیے لچک کا ایک ایسے وقت میں دعویٰ کیا ہے کہ جب صنعاء میں آج مسلسل تیسرے روز بھی تیل کا بحران جاری ہے۔ پٹرولیم مصنوعات بلیک مارکیٹ میں فروخت ہو رہی ہیں۔

اس کےعلاوہ گذشتہ کئی ہفتوں سے صنعاء میں گیس کا بھی شدید بحران پایا جا رہا ہے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ تیل کی قلت کے بعد پٹرول اسٹیشنوں کے سامنے گاڑیوں کی لمبی لمبی قطاریں لگی ہوئی ہیں۔ بلیک مارکیٹ میں ایک گیلن پٹرول کی قیمت 16 ہزار یمنی ریال تک جا پہنچی ہے۔ تین روز قبل 20 لٹر کے گیلن کی قیمت 8 ہزار 500 ریال تھی۔