.

شام کی تعمیر نو میں نصف سے زاید عرصہ لگ سکتا ہے: ’یو این‘ عہدیدار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کے ایک عہدیدار نے کہا ہے کہ شام میں سنہ 2011ء کے بعد سے جاری جنگ کے دوران اتنی زیادہ تباہی ہوچکی ہے کہ اس کی تعمیر نو میں اب نصف صدی سے زاید کا عرصہ لگ سکتا ہے۔

اقوام متحدہ کے مشیر برائے انسداد اجتماعی قتل عام ’ادما بینگ‘ نے نیویارک میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ عالمی برادری کو شام کی تعمیر نو کے لیے بہت کچھ کرنا ہوگا۔ انہوں نے الزام عاید کیا کہ اسد رجیم کی فوج اور اس کی معاون ملیشیائیں دہشت گردی کے خلاف جنگ کی آڑمیں اپنے ہی عوام کا قتل عام کررہی ہیں۔

’یو این‘ عہدیدار نے شام کے مختلف دھڑوں پر زور دیا کہ وہ نسلی اور مذہبی بنیادوں پر نہیں بلکہ شام کے شہری ہونے پر قومیت کی بنیاد پر متحد ہوں اور مصالحتی کوششیں آگے بڑھائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ مناسب نہیں شامی عوام خود کو شیعہ، سنی، علوی یا کسی دوسری تفریق کی بنیاد پر تقسیم کریں بلکہ وہ شامی شہری ہونے کا ثبوت دیں اور دیگر تمام امتیازات کوختم کردیں۔

اقوام متحدہ کے عہدیدار نے ایک سوال کے جواب میں ادلب میں روس اور ترکی کے درمیان معاہدے کا خیر مقدم کیا اور امید ظاہر کی کہ ادلب میں خون خرابے سے بچنے کی کوششوں کا احترام کیا جائے گا اور تمام دھڑے اس کی حمایت کریں گے۔

خیال رہے کہ گذشتہ سوموار کو روسی صدر ولادی میر پوتین اور ان کے ترک ہم منصب رجب طیب ایردوآن نے سوشی میں ہونے والی ایک ملاقات میں ادلب میں شدت پسند جنگجوؤں اور اعتدل پسند اپوزیشن کے درمیان اسلحہ سے پاک ایک زون کے قیام پر اتفاق کیا تھا۔