.

دنیا میں 1.3 ارب افراد "غربت کی لکیر سے نیچے" ہیں: اقوام متحدہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کی ایک نئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دنیا بھر میں غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والے مجموعی افراد میں نصف تعداد بچوں کی ہے۔

یہ بات اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام اورOxford Poverty and Human Development کی جانب سے جمعرات کے روز جاری ہونے والے Multidimensional Poverty Index میں بتائی گئی۔

رپورٹ کے مطابق 104 ممالک میں 1.3 ارب ایسے افراد ہیں جن کی درجہ بندی غربت کی لکیر سے نیچے کی گئی ہے۔ ان میں 18 برس سے کم عمر 66.2 کروڑ کم سن بچّے شامل ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والے افراد کی اکثریت (1.1 ارب افراد( دیہی علاقوں میں رہتے ہیں۔ دیہی علاقوں میں غربت کی شرح شہری علاقوں کے مقابلے میں چار گُنا زیادہ ہے۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر کے غریب افراد میں سے 83% صحرائے اعظم کے جنوب میں افریقا کے علاقے اور جنوبی ایشیا میں رہتے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بعض ممالک میں حکومت کے ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے غربت کے خاتمے کے سلسلے میں مثبت نائج کو یقینی بنایا گیا ہے۔ مثلا بھارت میں اس نوعیت کے منصوبوں کے طفیل 2005ء سے 2016ء کے درمیان 27.1 کروڑ افراد غربت کے دائرے سے باہر آئے۔

رپورٹ میں اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے ڈائریکٹر ایکم شٹائنر کا کہنا ہے کہ اگرچہ غربت کی شرح بالخصوص بچوں میں انتہائی بلند ہے، اس کے باوجود غربت کے خاتمے کے لیے پیش رفت ممکن ہے۔

اقوام متحدہ ہر ایسے شخص کو غربت کے دائرے میں شمار کرتی ہے جس کی یومیہ آمدنی 1.9 ڈالر سے زیادہ نہ ہو۔