.

میکسیکو کے بعد "ٹرمپ کی دیوار" کا خیال عرب ممالک تک پہنچ گیا !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسپین کے وزیر خارجہ Josep Borrell کے انکشاف کے مطابق امریکی صدر نے افریقا میں واقع صحرائے اعظم (صحارا) کی سرحد پر ایک دیوار بنانے کی تجویز پیش کی ہے۔ اس کا مقصد افریقا کے ملکوں (جن میں بعض عرب ممالک بھی ہیں) سے آںے والے مہاجرین پر روک لگانا ہے۔ یہ تجویز اُسی دیوار کی طرز پر ہے جو امریکا میکسیکو کے ساتھ سرحد پر بنانے کا ارادہ رکھتا ہے۔

اسپین کے میڈیا کے مطابق وزیر خارجہ بوریل نے رواں ہفتے میڈرڈ میں ایک اجلاس کے دوران کہا کہ "نہ تو بندرگاہوں کی بندش کوئی حل ہے اور نہ صحرائے اعظم کے آرپار دیوار کی تعمیر کرنا جس کی تجویز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں میرے سامنے پیش کی"۔

بوریل کے مطابق ٹرمپ نے کہا کہ "بہت آسان، آپ لوگ صحرائے اعظم کی سرحد پر ایک دیوار بنا لیں"۔ اس پر بوریل نے ٹرمپ کو جواب دیا کہ "مگر کیا آپ جانتے ہیں کہ صحرائے اعظم کتنا بڑا ہے؟"۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یورپی قیادت ہجرت اور پناہ گزینوں کے بحران سے نمٹنے کا طریقہ کار تلاش کرنے کے لیے آسٹریا میں بات چیت کر رہی ہے۔

اسپین افریقہ سے سمندری یا زمینی راستے سے آنے والے مہاجرین کے یورپ میں داخلے کے لیے پہلا پھاٹک بن چکا ہے۔

ان مہاجرین کی اکثریت صحرائے اعظم کو عبور کر کے مراکش پہنچتی ہے اور پھر وہاں سے بحیرہ روم کے راستے یا پھر بلند خار دار تاروں پر چڑھ کر اسپین کا رخ کرتی ہے۔ یہ طریقہ کار اور سفر خطرات سے بھرپور ہوتا ہے۔

ٹرمپ اس سے قبل 3200 کلو میٹر طویل امریکا میکسیکو سرحد پر ایک دیوار تعمیر کرنے کی تجویز دے چکے ہیں۔ بعض تخمینوں کے مطابق اس منصوبے پر 20 ارب ڈالر کے قریب لاگت آئے گی۔

صحرائے اعظم مشرق میں بحرِ احمر سے لے کر مغرب میں بحرِ اوقیانوس تک پھیلا ہوا ہے اور اس کی لمبائی تقریبا 5 ہزار کلو میٹر ہے۔ اس میں کئی عرب ممالک مثلا الجزائر، مراکش، موریتانیہ اور لیبیا شامل ہیں۔