.

’ہمیں حوثی باغیوں نے گھروں سے زبردستی اٹھایا‘

ایران نواز حوثی دہشت گردوں سے نجات پانے والے بچے کے تاثرات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں جنگ کے باعث سخت افرادی قلت کا سامنا کرنے والے حوثی باغیوں پر الزام ہے کہ وہ اپنے جنگی جرائم اور مقاصد کے حصول کےکم عمر بچوں کو جنگ کا ایندھن بنا رہےہیں۔

حال ہی میں ایک فوٹیج سامنے آئی جس میں حوثیوں کے فوجی کیمپ سے فرار ہونے والے بچے کو دکھایا گیا ہے۔

بچے کا کہنا ہے کہ اسے اس کےگھر سے زبردستی اٹھا کر ایک عسکری کیمپ میں لے جایا گیا جہاں اسے اسلحہ چلانے کی تربیت دی گئی۔

یمنی بچے کے اس بیان سے حوثیوں کے بارے میں سامنے آنے والی ان اطلاعات کی تصدیق ہوتی ہے جن میں کہا گیا ہے کہ حوثی باغی جنگی مقاصد کے لیے بچوں کو اغواء کرنے کے بعد انہیں فوجی تربیت دیتے اور لڑائی میں جھونکتے ہیں۔

بچے نے بتایا کہ ہمیں گھر سے اٹھایا گیا اور زبردستی فوجی کیمپوں میں لایا گیا۔ ہمیں کہا گیا کہ ہمیں ہرصورت میں جنگ کی تربیت حاصل کرنا ہے۔ خیال رہے کہ یمن میں بچوں کو جنگ میں جھونکے جانے کا یہ پہلا موقع نہیں۔ آئے روز اس طرح کے کیسز سامنے آتے ہیں۔

سرکاری فوج نے مختلف شہروں میں حوثی باغیوں کے خلاف کارروائیوں کے دوران بیگار کے طور پر بھرتی کیے گئے ایسے بے شمار بچوں کو بازیاب کرایا۔ جنگ میں جھونکے گئے بچوں کی ذہنی اور نفسیاتی بحالی کے لیےباقاعدہ مراکز قائم کیے گئے ہیں۔