.

روس کے ساتھ تعلقات تاریخ کے مضبوط مرحلے میں ہیں: سعودی سفیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روس میں متعین سعودی عرب کے سفیر راید بن خالد قرملی نے کہا ہے کہ ان کے ملک کے ماسکو کے ساتھ تعلقات تاریخ کے مضبوط ترین دور میں جاری ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ماسکو میں روس کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’نوفوسٹی‘ کو دیئے ایک انٹرویو میں راید بن خالد قرملی کا کہنا تھا کہ سعودی عرب اور روس کے درمیان تاریخی دوستانہ تعلقات قائم ہیں اور یہ تعلقات اپنے مضبوط ترین دور میں پہنچ گئے ہیں۔

ان کا یہ انٹرویو سعودی عرب کے 86 ویں قومی دن کے موقع پر لیا گیا۔

سعودی سفیر کا کہنا تھا کہ سعودی عرب ۔ روس تعلقات اپنی تاریخ کے مضبوط ترین دور سے گزر رہے ہیں۔ سنہ 2015ء کے بعد سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان چار بار روس کا دورہ کرچکے ہیں۔ اکتوبر 2017ء کو سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے دورہ ماسکو سے دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات کے ایک نئے باب کا اغاز ہوا۔

ایک سوال کے جواب میں سعودی سفیر کا کہنا تھا کہ ریاض اور ماسکو کے درمیان وزارتی سطح پر ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ سعودی عرب کی طرف سے روسی صدر ولادی میرپوتین کو دورہ ریاض کی دعوت دی گئی ہے اور ہم اس دعوت کا خیر مقدم کرتے ہیں۔

ایک دوسرے سوال کے جواب میں قرملی کا کہنا تھا کہ سعودی عرب اور روس کے درمیان متبادل تجارتی روابط مضبوط ہو رہے ہیں۔ گذشتہ روس دونوں ملکوں کے درمیان دو طرفہ تجارتی حجم میں 100 فی صد اضافہ ہوا جب کہ رواں سال کے پہلے چار ماہ میں مزید 86 فی صد اضافہ دیکھا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کی روس میں سرمایہ کاری کا حجم دو ارب ڈالر ہے۔ سعودی انویسٹ فنڈ مستقبل قریب میں روس میں سرمایہ کاری کے حجم 10 ارب ڈالر تک لے جانا چاہتا ہے۔