.

عالمی جہاز رانی کو ایران کا نیا چیلنج، آبنائے ہرمز میں فوجی مشقیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ملک کو درپیش بدترین اقتصادی مسائل کے باوجود تہران نے اپنی جارحانہ سرگرمیوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ اس کی تازہ مثال آبنائے ہرمزمیں ایرانی فوج کی تازہ مشقیں ہیں جنہیں آبنائے ہرمزمیں بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے ایک نیا چیلنج قرار دیا جا رہا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق امریکا کی جانب سے ایران کے جوہری سمجھوتے سے علاحدگی کے بعد تہران کی جنگی سرگرمیوں میں بھی شدت آگئی ہے۔ ایران کے پاس امریکا کے اس اقدام کا جواب سوائے عسکری دھکیوں کےاور کچھ نہیں بچا ہے۔

خبر رساں ایجنسی ’ارنا‘ کے مطابق بری فوج نے خلیج عرب کی تزویراتی بندرگاہ آبنائے ہرمز کے قریب مشقیں جاری رکھی ہوئی ہیں۔

کل جمعہ کے روز ایرانی خبر رساں ادارے ’ارنا‘ نے کہا ہے کہ خلیج عرب کے قریب آبنائے ہرمزمیں ایران اپنی فضائی مشقیں کررہا ہے۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق جنگی مشقیں ایرانی دشمنوں کے لیے ایک پیغام ہیں کہ اگر ایران پر حملہ کیا جاتا ہے تو ہم اس کا فوری اور منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

ایک بیان میں مائیک پومپیو نے کہا کہ تہران کی طرف سے امریکی مفادات یا ہمارے علاقائی حلیفوں کے مفادات کو خطرہ پہنچا تو ہم تہران کو اس کا بھرپور جواب دیں گے۔

خیال رہے کہ مائیک پومپیو نے اگست کے آخر میں کہا تھا کہ آبنائے ہرمز میں عالمی جہاز رانی کو نقصان پہنچا تو ایران کو اس کی قیمت چکانا ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کا آبنائے ہرمز کو کنٹرول کرنے کا دعویٰ بے بنیاد ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکا اپنے علاقائی حلیفوں کے ساتھ مل کر بین الاقوامی جہاز رانی کو لاحق خطرات کی روک تھام کے لیے موثر اقدامات کررہا ہے۔ اگر آبنائے ہرمز میں عالمی مال بردار جہازوں کو نقصان پہنچتا ہے تو ایران کے خلاف فوری کارروائی کی جائے گی۔

گذشتہ روز اقوام متحدہ میں امریکی مندوبہ نیکی ہیلے کا کہنا تھا کہ تہران خطے میں عدم استحکام پھیلانے کے لیے مذہبی نعروں کا استعمال کررہا ہے۔