.

لیبیا کا اقوام متحدہ سے طرابلس میں تشدد کے خاتمے کے لیے موثر اقدام کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت نے اقوام متحدہ سے دارالحکومت طرابلس کے نواح میں جاری لڑائی رکوانے کے لیے ٹھوس اور موثر اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔اگست کے آخر سے جاری اس لڑائی میں ایک سو سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

لیبیا کی قومی اتحاد کی حکومت (جی این اے) نے ایک بیان میں اقوام متحدہ کے مشن پر زور دیا ہے کہ وہ سلامتی کونسل کو خونریز واقعات کی حقیقی تصویر پیش کرے تا کہ وہ شہریوں کے جان ومال کے تحفظ کے لیے کوئی اقدام کرسکے۔

طرابلس کے نواح میں جمعہ کو متحارب گروپوں کے درمیان جھڑپوں میں پندرہ افراد ہلاک اور دسیوں زخمی ہوگئے تھے لیکن ہفتے کی صبح صورت حال قدرے بہتر بتائی گئی تھی ۔

طرابلس کے نواحی علاقوں میں 26 اگست سے وقفے وقفے سے دو ملیشیاؤں کے درمیان کنٹرول کے لیے لڑائی جاری ہے۔ ان کے درمیان 4 ستمبر کو جنگ بندی ہوئی تھی لیکن اس ہفتے ان کے درمیان دوبارہ لڑائی چھڑ گئی ہے۔بالخصوص دارالحکومت کے علاقے صلاح الدین اور ناقابل استعمال بین الاقوامی ہوائی اڈے کی جانب جانے والی شاہراہ پر جھڑپیں ہورہی ہیں۔

ان متحارب ملیشیاؤں کا تعلق لیبیا کے تیسرے بڑے شہر مصراتہ اور جنوب مشرق میں واقع قصبے طرحونہ سے ہے۔اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹیریس نے بھی متحارب ملیشیا ؤں سے جنگ بندی سمجھوتے کے احترام کی ضرورت پر زور دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ ایسی کارروائیوں سے گریز کریں جن سے شہری آبادی کی مشکلات میں اضافہ ہوسکتا ہو ۔

انھوں نے ایک بیان میں کہا کہ ’’ جو لوگ بھی بین الاقوامی انسانی قانون اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون کی خلاف ورزیوں کے ذمے دار ہیں، ان کا احتساب کیا جانا چاہیے‘‘۔