.

چین نے امریکا کے ساتھ تجارتی بات چیت منسوخ کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ چین نے امریکا کے ساتھ ہونے والی آئندہ تجارتی بات چیت منسوخ کر دی ہے اور اب وہ اپنے نائب وزیراعظم کو رواں ہفتے واشنگٹن نہیں بھیجے گا۔

اخبار کے مطابق نائب وزیراعظم کے دورے سے قبل ایک درمیانی سطح کے وفد کو بھی واشنگٹن کا سفر کرنا تھا تاہم اب یہ دورہ منسوخ کر دیا گیا ہے۔

چین نے گزشتہ ہفتے امریکا سے 60 ارب ڈالر کی درآمدی مصنوعات پر ٹیکس لگا دیا تھا۔ یہ اقدام امریکی حکومت کی طرف سے 200 ارب ڈالر کی چینی مصنوعات پر ٹیکس عاید کیے جانے کے جواب میں سامنے آیا۔ مذکورہ فیصلہ 24 ستمبر سے نافذ العمل ہو گا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے "فوکس نیوز" کے ساتھ انٹرویو میں بیجنگ کی جانب سے امریکی مصنوعات پر نیا ٹیکس نافذ کیے جانے پر چین کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ "ہمارے پاس اب کوئی آپشن نہیں ہے ،،، کافی طویل وقت گزر چکا ہے ،،، یہ لوگ ہمیں نقصان پہنچا رہے ہیں"۔

بلومبرگ نیوز ایجنسی کے مطابق دنوں ملکو کے بیچ تجارتی جنگ میں ٹرمپ جو اگلی ضرب لگائیں گے وہ چین سے 200 ارب ڈالر مالیت کی درآمدات پر 10 فی صد محصولات عائد کیے جانے کی صورت میں ہو گی۔ ہو سکتا ہے کہ یہ شرح آئندہ برس 25 فی صد ہو جائے۔

علاوہ ازیں ٹرمپ چین میں تیار ہونے والی 267 ارب ڈالر کی مصنوعات پر اضافی محصولات لگانے کی دھمکی بھی دے چکے ہیں۔ یہ اقدام تمام اشیاء صرف کو متاثر کر سکتا ہے جن میں موبائل فونز، جوتے اور کپڑے شامل ہیں۔

رواں سال کی پہلی شش ماہی میں چین نے مجموعی مقامی پیداوار میں 6.8 فی صد کی نمو کو یقینی بنایا۔ اس طرح یہ تناسب حکومت کی جانب سے مقرر 6.5 فی صد کے ہدف سے زیادہ رہا۔