.

یمن میں ’ہیضے‘کی وباء خطرناک حدودں کو چھونے لگی: اقوام متحدہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ یمن میں ہیضے کی وبا ایک بار پھر بے قابو ہوکر خطرناک حدود کو چھونے لگی ہے۔ عالمی ادارے نے خبردار کیا ہے کہ اگر یمن میں ہیضے کی روک تھام کے لیے موثر اقدامات نہ کیے گئے تو اس کے نتیجے میں بے پناہ انسانی جانوں کانقصان ہوسکتا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے معاون برائے انسانی امور مارک لوکوک نے نیویارک میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ یمن میں ہیضہ اپنی خطرناک حدودں کو چھو رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم یمن میں قحط کو شکست دینے کے لیے کوشاں ہیں مگر ہمیں اس پر قابو پانے میں مشکلات کا سامنا ہے۔

’یو این‘ عہدیدار کا کہنا تھاکہ تمام تر کوششوں کے باوجود یمن میں انسانی صورت حال میں کوئی بہتری نہیں لائی جاسکی ہے۔ اقوام متحدہ جنگ سے متاثرہ علاقوں میں8 لاکھ افراد کو خوراک مہیا کرنا کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ انہوں نے یمنی عوام کے لیے امداد دینے والے ملکوں بالخصوص سعودی عرب اور دوسرے خلیجی ممالک کے مالی تعاون کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔

لوکوک کا کہنا تھا کہ یمن میں امدادی آپریشن میں درپیش مشکلات میں ایک اہم مسئلہ مقامی کرنسی کی ویلیو میں گراوٹ بھی ہے۔ اقوام متحدہ یمن عوام کی مالی مشکلا کے حل کی کوششوں میں ناکام ہے۔

ادھر حوثی باغیوں نے البیضاء گورنری کے علاقے البریہ میں پٹرول، ڈیزل کی بڑی مقدار اور گیس کے 200 انجن قبضے میں لے رکھے ہیں۔ یہ سامان مآرب سے لایا جا رہا تھا جسے حوثی باغیوں نے راستے میں لوٹ لیا۔ مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ حوثی ملیشیا کی جانب سے ہرڈیزل ٹینکر پر چار ملین ریال کا کسٹم ٹیکس عاید کیا ہے۔

امدادی سامان کی لوٹ مار

درایں اثناء یمن میں امدادی کاموں میں سرگرم شاہ سلمان ریلیف سینٹر کے جنرل سپروائزر عبداللہ الربیعہ نے کہا ہے کہ ہم یمن کے بیشتر علاقوں میں امدادی سامان پہنچانے میں کامیاب رہے ہیں اور کامیابی کے ساتھ امدادی آپریشن جاری ہے۔

ایک پریس کانفرنس سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ عرب اتحاد یمن کے ساحلی علاقے الحدیدہ میں جنگ سے متاثرہ شہریوں کو ہرممکن مدد فراہم کررہا ہے۔

اس پریس کانفرنس میں متحدہ عرب امارات کے معاون وزیر مملکت برائے خارجہ وعالمی امورسلطان الشامسی، ڈائریکٹر سول آپریشنز عبداللہ بن دخیل الحبابی اور دیگر عہدیدار بھی موجود تھے۔

اس موقع پر الربیعہ نے الزام عاید کیا کہ حوثی باغی یمنی عوام کے لیے آنے والی امداد کی لوٹ مار میں ملوث ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سنہ 2015ء اور 2017ء کے درمیان حوثیوں نے 65 امدادی کشتیوں،124 امدادی قافلوں اور 628 امدادی ٹرک لوٹ لیے۔