.

سپاہِ پاسداران انقلاب ایران کا فوجی پریڈ پر حملے کے بعد امریکا اور اسرائیل کو انتباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سپاہِ پاسداران انقلاب ایران کے نائب سربراہ حسین سلامی نے امریکا اور اسرائیل کے لیڈروں پر اہواز شہر میں فوجی پریڈ پر حملے میں ملوث ہونے کا الزام عاید کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھیں ایران کی جانب سے ’’ تباہ کن‘‘ رد عمل کی توقع کرنی چاہیے۔

وہ اہواز میں حملے میں مارے گئے افراد کی نماز جنازہ کے موقع پر تقریر کررہے تھے۔ان کی یہ تقریر سرکار ی ٹیلی ویژن سے براہ راست نشر کی گئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’ آپ نے اس سے پہلے بھی ہمارا انتقام دیکھا ہے۔اب بھی آپ ہمارا تباہ کن انتقام دیکھیں گے اور آپ نے جو کچھ کیا ہے،اس پر آپ کو پچھتانا پڑے گا‘‘۔

اس دوران میں ایران کے وزیر برائے سراغرسانی محمود علاوی نے یہ اطلاع دی ہے کہ اہواز میں فوجی پریڈ پر حملے کے الزام میں مشتبہ افراد کے ایک بڑے نیٹ ورک کو پکڑ لیا گیا ہے۔

اہواز میں ہفتے کے روز چار حملہ آوروں نے فوجی پریڈ دیکھنے کے لیے چبوترے پر جمع اعلیٰ افسروں ،اہلکاروں اور عام افراد پر اندھا دھند فائرنگ کردی تھی جس کے نتیجے میں انتیس افراد ہلاک اور کم سے کم ساٹھ زخمی ہوگئے تھے۔یہ سالانہ پریڈ 1980ء میں ایران کی عراق کے ساتھ جنگ کے آغاز کی یاد میں منعقد کی گئی تھی۔

سخت گیر جنگجو گروپ داعش نے اس حملے کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا تھا اور داعش کی خبر رساں ایجنسی اعماق نے اپنی ویب سائٹ پر ایک ویڈیو پوسٹ کی ہے ۔اس میں ایک گاڑی پرسوار تین افراد محو سفر ہیں۔ان کے بارے میں اس نے کہا ہے کہ وہ حملے کے لیے جارہے ہیں۔ ویڈیو میں پاسدارا ن انقلاب کے لوگو والی ٹوپی پہنے ایک شخص اس حملے کے بارے میں فارسی زبان میں کوئی گفتگو کررہا ہے۔